Skip to content

Categories:

The Quran (Chapter 53) An-Najm سورة النّجْم

An-Najm
In the name of Allah, the Beneficent, the Merciful
By the star when it disappears, (or vanishes). (1) Your companion (Muhammad S.A.W) has neither gone astray nor has erred. (2) Nor does he speak of (his own) desire. (3) It is only a Revelation revealed. (4) He has been taught (this Qur’ân) by one mighty in power [Jibril (Gabriel)] (5) (Jibril — Gabriel) appeared in his real shape and became stable. (6) While he [Jibril (Gabriel)] was in the highest part of the horizon, (7) Then he [Jibril (Gabriel)] approached and came closer, (8) And was at a distance of two bows’ length or (even) nearer, (9) So (Allâh) revealed to His Man [Muhammad S.A.W through Jibrail (Gabriel) A.S.] whatever He revealed. (10) The (Prophet’s) heart lied not in what he (Muhammad S.A.W) saw. (11) Will you then dispute with him (Muhammad S.A.W) about what he saw [during the Mi'râj: (Ascent of the Prophet S.A.W to the seven heavens)][] (12) And indeed he (Muhammad S.A.W) saw him [Jibril (Gabriel)] at a second descent (i.e. another time). (13) Near Sidrat-ul-Muntaha (a lote-tree of the utmost boundary over the seventh heaven beyond which none can pass even not Jibril [Gabriel]). (14) Near it is the Paradise of Abode. (15) When that covered the lote-tree which did cover it! (16) The sight (of Prophet Muhammad S.A.W) turned not aside (right or left), nor it transgressed beyond the limit. (17) Indeed he (Muhammad S.A.W) did see, of the Greatest Signs, of his Lord (Allâh). (18) Have you then considered Al-Lât, and Al-’Uzza (two idols of the pagan Arabs) .[] (19) And Manât (another idol of the pagan Arabs), the other third? (20) Is it for you the males and for Him the females? (21) That indeed is a division most unfair! (22) They are but names which you have named — you and your fathers — for which Allâh has sent down no authority. They follow but a guess and that which they themselves desire, whereas there has surely come to them the Guidance from their Lord! (23) Or shall man have what he wishes? (24) But to Allâh belongs the last (Hereafter) and world). (25) And there are many angels in the heavens, whose intercession will avail nothing except after Allâh has given leave for whom He wills and is pleased with. (26) Verily, those who believe not in the Hereafter, name the angels with female names. (27) But they have no knowledge thereof. They follow but a guess, and verily, guess is no substitute for the truth. (28) Therefore withdraw (O Muhammad S.A.W) from him who turns away from Our Reminder (this Qur’ân) and desires nothing but the life of this world. (29) That is what they could reach of knowledge. Verily, your Lord it is He Who knows best him who goes astray from His Path, and He knows best him who receives guidance. (30) And to Allâh belongs all that is in the heavens and all that is in the earth, that He may requite those who do evil with that which they have done, and reward those who do good, with what is best. (31) Those who avoid great sins (see the Qur’ân, Verses: 6:152,153) and Al-Fawâhish (sex related lusts and sins) except the small faults, verily, your Lord is of vast forgiveness. He knows you well when He created you from the dust, and when you were fetuses in your mothers’ wombs. So ascribe not purity to yourselves. He knows best him who fears Allâh and keeps his duty to Him [i.e. those who are Al-Muttaqûn (pious - see V.2:2), friends of Allah, Wali, Oliya, Fuqraa, Momineen]. (32) Did you (O Muhammad S.A.W) observe him who turned away. (33) And gave a little, then stopped (giving)? (34) Is with him the knowledge of the unseen so that he sees? (35) Or is he not informed with what is in the Pages (Scripture) of Mûsa (Moses), (36) And of Ibrâhim (Abraham) who fulfilled loyality. (37) That no burdened person (with sins) shall bear the burden (sins) of another. (38) And that man can have nothing but what he does (good or bad)[] , (39) And that his deeds will be seen, (40) Then he will be recompensed with a full and the best recompense[] (41) And that to your Lord (Allâh) is the End (Return of everything). (42) And that it is He (Allâh) Who makes (whom He wills) laugh, and makes (whom He wills) weep. (43) And that it is He (Allâh) Who causes death and gives life. (44) And that He (Allâh) creates the pairs, male and female. (45) From Nutfah (drops of semen — male and female discharges) when it is emitted. (46) And that upon Him (Allâh) is another bringing forth (Resurrection). (47) And that it is He (Allâh) Who gives much or a little (of wealth and contentment) (48) And that He (Allâh) is the Lord of Sirius (the star which the pagan Arabs used to worship); (49) And that it is He (Allâh) Who destroyed the former ‘Ad (nation), (50) And Thamûd (nation). He spared none of them. (51) And the people of Nûh (Noah) aforetime, verily, they were more unjust and more rebellious and transgressing [in disobeying Allâh and His Messenger Nûh (Noah) A.S.] (52) And He destroyed the overthrown cities [of Sodom to which Prophet Lut (Lot) was sent]. (53) So there covered them that which did cover (i.e. torment with stones) (54) Then which of the Graces of your Lord (O man!) will you doubt (55) This (Muhammad S.A.W) is a warner (Messenger) of the (series of) warners (Messengers) of old[] (56) The Day of Resurrection draws near, (57) None besides Allâh can avert it, (or advance it, or delay it). (58) Do you then wonder at this recitation (the Qur’ân)? (59) And you laugh at it and weep not, (60) Wasting your (precious) lifetime in pastime and amusements. (61) So fall you down in prostration to Allâh, and worship Him (Alone). (62)

سورة النّجْم
شروع الله کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
تارے کی قسم جب غائب ہونے لگے (۱) کہ تمہارے رفیق (محمدﷺ) نہ رستہ بھولے ہیں نہ بھٹکے ہیں (۲) اور نہ خواہش نفس سے منہ سے بات نکالتے ہیں (۳) یہ (قرآن) تو حکم خدا ہے جو (ان کی طرف) بھیجا جاتا ہے (۴) ان کو نہایت قوت والے نے سکھایا (۵) (یعنی جبرائیل) طاقتور نے پھر وہ پورے نظر آئے (۶) اور وہ (آسمان کے) اونچے کنارے میں تھے (۷) پھر قریب ہوئے اوراَور آگے بڑھے (۸) تو دو کمان کے فاصلے پر یا اس سے بھی کم (۹) پھر خدا نے اپنے بندے کی طرف جو بھیجا سو بھیجا (۱۰) جو کچھ انہوں نے دیکھا ان کے دل نے اس کو جھوٹ نہ مانا (۱۱) کیا جو کچھ وہ دیکھتے ہیں تم اس میں ان سے جھگڑتے ہو؟ (۱۲) اور انہوں نے اس کو ایک بار بھی دیکھا ہے (۱۳) پرلی حد کی بیری کے پاس (۱۴) اسی کے پاس رہنے کی جنت ہے (۱۵) جب کہ اس بیری پر چھا رہا تھا جو چھا رہا تھا (۱۶) ان کی آنکھ نہ تو اور طرف مائل ہوئی اور نہ (حد سے) آگے بڑھی (۱۷) انہوں نے اپنے پروردگار (کی قدرت) کی کتنی ہی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں (۱۸) بھلا تم لوگوں نے لات اور عزیٰ کو دیکھا (۱۹) اور تیسرے منات کو (کہ یہ بت کہیں خدا ہوسکتے ہیں) (۲۰) (مشرکو!) کیا تمہارے لئے تو بیٹے اور خدا کے لئے بیٹیاں (۲۱) یہ تقسیم تو بہت بےانصافی کی ہے (۲۲) وہ تو صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے گھڑ لئے ہیں۔ خدا نے تو ان کی کوئی سند نازل نہیں کی۔ یہ لوگ محض ظن (فاسد) اور خواہشات نفس کے پیچھے چل رہے ہیں۔ حالانکہ ان کے پروردگار کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آچکی ہے (۲۳) کیا جس چیز کی انسان آرزو کرتا ہے وہ اسے ضرور ملتی ہے (۲۴) آخرت اور دنیا تو الله ہی کے ہاتھ میں ہے (۲۵) اور آسمانوں میں بہت سے فرشتے ہیں جن کی سفارش کچھ بھی فائدہ نہیں دیتی مگر اس وقت کہ خدا جس کے لئے چاہے اجازت بخشے اور (سفارش) پسند کرے (۲۶) جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے وہ فرشتوں کو (خدا کی) لڑکیوں کے نام سے موسوم کرتے ہیں (۲۷) حالانکہ ان کو اس کی کچھ خبر نہیں۔ وہ صرف ظن پر چلتے ہیں۔ اور ظن یقین کے مقابلے میں کچھ کام نہیں آتا (۲۸) تو جو ہماری یاد سے روگردانی اور صرف دنیا ہی کی زندگی کا خواہاں ہو اس سے تم بھی منہ پھیر لو (۲۹) ان کے علم کی انتہا یہی ہے۔ تمہارا پروردگار اس کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کے رستے سے بھٹک گیا اور اس سے بھی خوب واقف ہے جو رستے پر چلا (۳۰) اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے (اور اس نے خلقت کو) اس لئے (پیدا کیا ہے) کہ جن لوگوں نے برے کام کئے ان کو ان کے اعمال کا (برا) بدلا دے اور جنہوں نے نیکیاں کیں ان کو نیک بدلہ دے (۳۱) جو صغیرہ گناہوں کے سوا بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کی باتوں سے اجتناب کرتے ہیں۔ بےشک تمہارا پروردگار بڑی بخشش والا ہے۔ وہ تم کو خوب جانتا ہے۔ جب اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں بچّے تھے۔ تو اپنے آپ کو پاک صاف نہ جتاؤ۔ جو پرہیزگار ہے وہ اس سے خوب واقف ہے (۳۲) بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے منہ پھیر لیا (۳۳) اور تھوڑا سا دیا (پھر) ہاتھ روک لیا (۳۴) کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے کہ وہ اس کو دیکھ رہا ہے (۳۵) کیا جو باتیں موسیٰ کے صحیفوں میں ہیں ان کی اس کو خبر نہیں پہنچی (۳۶) اور ابراہیمؑ کی جنہوں نے (حق طاعت ورسالت) پورا کیا (۳۷) یہ کہ کوئی شخص دوسرے (کے گناہ) کا بوجھ نہیں اٹھائے گا (۳۸) اور یہ کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے (۳۹) اور یہ کہ اس کی کوشش دیکھی جائے گی (۴۰) پھر اس کو اس کا پورا پورا بدلا دیا جائے گا (۴۱) اور یہ کہ تمہارے پروردگار ہی کے پاس پہنچنا ہے (۴۲) اور یہ کہ وہ ہنساتا اور رلاتا ہے (۴۳) اور یہ کہ وہی مارتا اور جلاتا ہے (۴۴) اور یہ کہ وہی نر اور مادہ دو قسم (کے حیوان) پیدا کرتا ہے (۴۵) (یعنی) نطفے سے جو (رحم میں) ڈالا جاتا ہے (۴۶) اور یہ کہ (قیامت کو) اسی پر دوبارہ اٹھانا لازم ہے (۴۷) اور یہ کہ وہی دولت مند بناتا اور مفلس کرتا ہے (۴۸) اور یہ کہ وہی شعریٰ کا مالک ہے (۴۹) اور یہ کہ اسی نے عاد اول کو ہلاک کر ڈالا (۵۰) اور ثمود کو بھی۔ غرض کسی کو باقی نہ چھوڑا (۵۱) اور ان سے پہلے قوم نوحؑ کو بھی۔ کچھ شک نہیں کہ وہ لوگ بڑے ہی ظالم اور بڑے ہی سرکش تھے (۵۲) اور اسی نے الٹی ہوئی بستیوں کو دے پٹکا (۵۳) پھر ان پر چھایا جو چھایا (۵۴) تو (اے انسان) تو اپنے پروردگار کی کون سی نعمت پر جھگڑے گا (۵۵) یہ (محمدﷺ) بھی اگلے ڈر سنانے والوں میں سے ایک ڈر سنانے والے ہیں (۵۶) آنے والی (یعنی قیامت) قریب آ پہنچی (۵۷) اس (دن کی تکلیفوں) کو خدا کے سوا کوئی دور نہیں کرسکے گا (۵۸) اے منکرین خدا) کیا تم اس کلام سے تعجب کرتے ہو؟ (۵۹) اور ہنستے ہو اور روتے نہیں؟ (۶۰) اور تم غفلت میں پڑ رہے ہو (۶۱) تو خدا کے آگے سجدہ کرو اور (اسی کی) عبادت کرو (۶۲)
سُوۡرَةُ النّجْم
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
وَٱلنَّجۡمِ إِذَا هَوَىٰ (١) مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمۡ وَمَا غَوَىٰ (٢) وَمَا يَنطِقُ عَنِ ٱلۡهَوَىٰٓ (٣) إِنۡ هُوَ إِلَّا وَحۡىٌ۬ يُوحَىٰ (٤) عَلَّمَهُ ۥ شَدِيدُ ٱلۡقُوَىٰ (٥) ذُو مِرَّةٍ۬ فَٱسۡتَوَىٰ (٦) وَهُوَ بِٱلۡأُفُقِ ٱلۡأَعۡلَىٰ (٧) ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ (٨) فَكَانَ قَابَ قَوۡسَيۡنِ أَوۡ أَدۡنَىٰ (٩) فَأَوۡحَىٰٓ إِلَىٰ عَبۡدِهِۦ مَآ أَوۡحَىٰ (١٠) مَا كَذَبَ ٱلۡفُؤَادُ مَا رَأَىٰٓ (١١) أَفَتُمَـٰرُونَهُ ۥ عَلَىٰ مَا يَرَىٰ (١٢) وَلَقَدۡ رَءَاهُ نَزۡلَةً أُخۡرَىٰ (١٣) عِندَ سِدۡرَةِ ٱلۡمُنتَهَىٰ (١٤) عِندَهَا جَنَّةُ ٱلۡمَأۡوَىٰٓ (١٥) إِذۡ يَغۡشَى ٱلسِّدۡرَةَ مَا يَغۡشَىٰ (١٦) مَا زَاغَ ٱلۡبَصَرُ وَمَا طَغَىٰ (١٧) لَقَدۡ رَأَىٰ مِنۡ ءَايَـٰتِ رَبِّهِ ٱلۡكُبۡرَىٰٓ (١٨) أَفَرَءَيۡتُمُ ٱللَّـٰتَ وَٱلۡعُزَّىٰ (١٩) وَمَنَوٰةَ ٱلثَّالِثَةَ ٱلۡأُخۡرَىٰٓ (٢٠) أَلَكُمُ ٱلذَّكَرُ وَلَهُ ٱلۡأُنثَىٰ (٢١) تِلۡكَ إِذً۬ا قِسۡمَةٌ۬ ضِيزَىٰٓ (٢٢) إِنۡ هِىَ إِلَّآ أَسۡمَآءٌ۬ سَمَّيۡتُمُوهَآ أَنتُمۡ وَءَابَآؤُكُم مَّآ أَنزَلَ ٱللَّهُ بِہَا مِن سُلۡطَـٰنٍ‌ۚ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ وَمَا تَهۡوَى ٱلۡأَنفُسُ‌ۖ وَلَقَدۡ جَآءَهُم مِّن رَّبِّہِمُ ٱلۡهُدَىٰٓ (٢٣) أَمۡ لِلۡإِنسَـٰنِ مَا تَمَنَّىٰ (٢٤) فَلِلَّهِ ٱلۡأَخِرَةُ وَٱلۡأُولَىٰ (٢٥) ۞ وَكَم مِّن مَّلَكٍ۬ فِى ٱلسَّمَـٰوَٲتِ لَا تُغۡنِى شَفَـٰعَتُہُمۡ شَيۡـًٔا إِلَّا مِنۢ بَعۡدِ أَن يَأۡذَنَ ٱللَّهُ لِمَن يَشَآءُ وَيَرۡضَىٰٓ (٢٦) إِنَّ ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِٱلۡأَخِرَةِ لَيُسَمُّونَ ٱلۡمَلَـٰٓٮِٕكَةَ تَسۡمِيَةَ ٱلۡأُنثَىٰ (٢٧) وَمَا لَهُم بِهِۦ مِنۡ عِلۡمٍ‌ۖ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ‌ۖ وَإِنَّ ٱلظَّنَّ لَا يُغۡنِى مِنَ ٱلۡحَقِّ شَيۡـًٔ۬ا (٢٨) فَأَعۡرِضۡ عَن مَّن تَوَلَّىٰ عَن ذِكۡرِنَا وَلَمۡ يُرِدۡ إِلَّا ٱلۡحَيَوٰةَ ٱلدُّنۡيَا (٢٩) ذَٲلِكَ مَبۡلَغُهُم مِّنَ ٱلۡعِلۡمِ‌ۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعۡلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِۦ وَهُوَ أَعۡلَمُ بِمَنِ ٱهۡتَدَىٰ (٣٠) وَلِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٲتِ وَمَا فِى ٱلۡأَرۡضِ لِيَجۡزِىَ ٱلَّذِينَ أَسَـٰٓـُٔواْ بِمَا عَمِلُواْ وَيَجۡزِىَ ٱلَّذِينَ أَحۡسَنُواْ بِٱلۡحُسۡنَى (٣١) ٱلَّذِينَ يَجۡتَنِبُونَ كَبَـٰٓٮِٕرَ ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡفَوَٲحِشَ إِلَّا ٱللَّمَمَ‌ۚ إِنَّ رَبَّكَ وَٲسِعُ ٱلۡمَغۡفِرَةِ‌ۚ هُوَ أَعۡلَمُ بِكُمۡ إِذۡ أَنشَأَكُم مِّنَ ٱلۡأَرۡضِ وَإِذۡ أَنتُمۡ أَجِنَّةٌ۬ فِى بُطُونِ أُمَّهَـٰتِكُمۡ‌ۖ فَلَا تُزَكُّوٓاْ أَنفُسَكُمۡ‌ۖ هُوَ أَعۡلَمُ بِمَنِ ٱتَّقَىٰٓ (٣٢) أَفَرَءَيۡتَ ٱلَّذِى تَوَلَّىٰ (٣٣) وَأَعۡطَىٰ قَلِيلاً۬ وَأَكۡدَىٰٓ (٣٤) أَعِندَهُ ۥ عِلۡمُ ٱلۡغَيۡبِ فَهُوَ يَرَىٰٓ (٣٥) أَمۡ لَمۡ يُنَبَّأۡ بِمَا فِى صُحُفِ مُوسَىٰ (٣٦) وَإِبۡرَٲهِيمَ ٱلَّذِى وَفَّىٰٓ (٣٧) أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ۬ وِزۡرَ أُخۡرَىٰ (٣٨) وَأَن لَّيۡسَ لِلۡإِنسَـٰنِ إِلَّا مَا سَعَىٰ (٣٩) وَأَنَّ سَعۡيَهُ ۥ سَوۡفَ يُرَىٰ (٤٠) ثُمَّ يُجۡزَٮٰهُ ٱلۡجَزَآءَ ٱلۡأَوۡفَىٰ (٤١) وَأَنَّ إِلَىٰ رَبِّكَ ٱلۡمُنتَہَىٰ (٤٢) وَأَنَّهُ ۥ هُوَ أَضۡحَكَ وَأَبۡكَىٰ (٤٣) وَأَنَّهُ ۥ هُوَ أَمَاتَ وَأَحۡيَا (٤٤) وَأَنَّهُ ۥ خَلَقَ ٱلزَّوۡجَيۡنِ ٱلذَّكَرَ وَٱلۡأُنثَىٰ (٤٥) مِن نُّطۡفَةٍ إِذَا تُمۡنَىٰ (٤٦) وَأَنَّ عَلَيۡهِ ٱلنَّشۡأَةَ ٱلۡأُخۡرَىٰ (٤٧) وَأَنَّهُ ۥ هُوَ أَغۡنَىٰ وَأَقۡنَىٰ (٤٨) وَأَنَّهُ ۥ هُوَ رَبُّ ٱلشِّعۡرَىٰ (٤٩) وَأَنَّهُ ۥۤ أَهۡلَكَ عَادًا ٱلۡأُولَىٰ (٥٠) وَثَمُودَاْ فَمَآ أَبۡقَىٰ (٥١) وَقَوۡمَ نُوحٍ۬ مِّن قَبۡلُ‌ۖ إِنَّہُمۡ كَانُواْ هُمۡ أَظۡلَمَ وَأَطۡغَىٰ (٥٢) وَٱلۡمُؤۡتَفِكَةَ أَهۡوَىٰ (٥٣) فَغَشَّٮٰهَا مَا غَشَّىٰ (٥٤) فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكَ تَتَمَارَىٰ (٥٥) هَـٰذَا نَذِيرٌ۬ مِّنَ ٱلنُّذُرِ ٱلۡأُولَىٰٓ (٥٦) أَزِفَتِ ٱلۡأَزِفَةُ (٥٧) لَيۡسَ لَهَا مِن دُونِ ٱللَّهِ كَاشِفَةٌ (٥٨) أَفَمِنۡ هَـٰذَا ٱلۡحَدِيثِ تَعۡجَبُونَ (٥٩) وَتَضۡحَكُونَ وَلَا تَبۡكُونَ (٦٠) وَأَنتُمۡ سَـٰمِدُونَ (٦١) فَٱسۡجُدُواْ لِلَّهِ وَٱعۡبُدُواْ ۩ (٦٢)

Posted in The Quran.

Tagged with , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , .


2 Responses

Stay in touch with the conversation, subscribe to the RSS feed for comments on this post.

  1. alfarouk says

    May Almighty Allah Bless and Guide us all….ameen….



Some HTML is OK

or, reply to this post via trackback.

 

Get Adobe Flash playerPlugin by wpburn.com wordpress themes