In the name of Allah, the Beneficent, the Merciful
Indeed Allâh has heard the statement of her (Khaulah bint Tha’labah) that disputes with you (O Muhammad SAW) concerning her husband (Aus bin As¬Sâmit), and complains to Allâh. And Allâh hears the argument between you both. Verily, Allâh is All-Hearer, All-Seer. (1) Those among you who make their wives unlawful to them by (Zihâr) (i.e. by saying to them “You are like my mother.”) they cannot be their mothers. None can be their mothers except those who gave them birth. And verily, they utter an ill word and a lie. And verily, Allâh is Oft-Pardoning, Oft-Forgiving. (2) And those who make unlawful to them their wives by Zihâr and wish to free themselves from what they uttered, (the penalty) in that case is the freeing of a slave before they touch each other. That is an admonition to you. And Allâh is All-Aware of what you do. (3) And he who finds not (the money for freeing a slave) must fast two successive months before they both touch each other. And he who is unable to do so, should feed sixty Miskîns (poor). That is in order that you may have perfect Faith in Allâh and His Messenger. These are the limits set by Allâh. And for disbelievers, there is a painful torment. (4) Verily, those who oppose Allâh and His Messenger (Muhammad SAW) [] will be disgraced, as those before them (among the past nation), were disgraced. And We have sent down clear Ayât (proofs, evidences, verses, lessons, signs, revelations, etc.). And for the disbelievers is a disgracing torment. (5) On the Day when Allâh will resurrect them all together (i.e. on the Day of Resurrection) and inform them of what they did. Allâh has kept account of it, while they have forgotten it. And Allâh is Witness over all things. (6) Have you not seen that Allâh knows whatsoever is in the heavens and whatsoever is on the earth? There is no Najwa[] (secret counsel) of three, but He is their fourth (amongst them), nor of five but He is their sixth (amongst them), not of less than that or more, but He is with them wheresoever they may be; And afterwards on the Day of Resurrection, He will inform them of what they did. Verily, Allâh is the All-Knower of everything. (7) Have you not seen those who were forbidden to hold secret counsels, and afterwards returned to that which they had been forbidden, and conspired together for sin and wrong doing and disobedience to the Messenger (Muhammad SAW ). And when they come to you, they greet you with a greeting wherewith Allâh greets you not, and say within themselves: “Why should Allâh punish us not for what we say?” Hell will be sufficient for them, they will burn therein, and worst indeed is that destination! (8) O you who believe! When you hold secret counsel, do it not for sin and wrong-doing, and disobedience towards the Messenger (Muhammad SAW) but do it for Al-Birr (righteousness) and Taqwa (virtues and piety); and fear Allâh unto Whom you shall be gathered. (9) Secret counsels (conspiracies) are only from Shaitân (Satan), in order that he may cause grief to the believers. But he cannot harm them in the least, except as Allâh permits, and in Allâh let the believers put their trust[] (10) O you who believe! When you are told to make room in the assemblies, (spread out and) make room. Allâh will give you (ample) room (from His Mercy). And when you are told to rise up [for prayers, Jihâd (holy fighting in Allâh's Cause), or for any other good deed], rise up. Allâh will exalt in degree those of you who believe, and those who have been granted knowledge. And Allâh is Well-Acquainted with what you do. (11) O you who believe! When you (want to) consult the Messenger (Muhammad SAW) in private, spend something in charity before your private consultation. That will be better and purer for you. But if you find not (the means for it), then verily, Allâh is Oft-Forgiving, Most Merciful. (12) Are you afraid of spending in charity before your private consultation (with him)? If then you do it not, and Allâh has forgiven you, then (at least) perform Salât (Iqâmat¬as¬Salât) and give Zakât (charity) and obey Allâh (i.e. do all that Allâh and His Messenger SAW order you to do). And Allâh is All-Aware of what you do. (13) Have you (O Muhammad SAW) not seen those (hypocrites) who take as friends a people upon whom is the Wrath of Allâh? They are neither of you (believers) nor of them (nonbelievers), and they swear to a lie while they know. (14) Allâh has prepared for them a severe torment. Evil indeed is that which they used to do. (15) They have made their oaths a screen (for their evil actions). Thus they hinder (men) from the Path of Allâh, so they shall have a humiliating torment. (16) Their children and their wealth will avail them nothing against Allâh. They will be the dwellers of the Fire, to dwell therein forever. (17) On the Day when Allâh will resurrect them all together (for their account), then they will swear to Him as they swear to you (O Muslims). And they think that they have something (to stand upon). Verily, they are liars! (18) Shaitân (Satan) has overpowered them. So he has made them forget the remembrance of Allâh. They are the party of Shaitân (Satan). Verily, it is the party of Shaitân (Satan) that will be the losers! (19) Those who oppose Allâh and His Messenger (Muhammad SAW), they will be among the lowest (most humiliated). (20) Allâh has decreed: “Verily! It is I and My Messengers who shall be the victorious.” Verily, Allâh is All-Powerful, All-Mighty. (21) You (O Muhammad SAW) will not find any people who believe in Allâh and the Last Day, making friendship with those who oppose Allâh and His Messenger (Muhammad SAW), even though they were their fathers or their sons or their brothers or their kindred (people). For such He has written Faith in their hearts, and strengthened them with Rûh (spirit of Allah) from Himself. And He will admit them to Gardens (Paradise) under which rivers flow to dwell therein (forever). Allâh is pleased with them, and they with Him. They are the Party of Allâh. Verily, it is the Party of Allâh that will be the successful. (22)
شروع الله کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
(اے پیغمبر) جو عورت تم سے اپنے شوہر کے بارے میں بحث جدال کرتی اور خدا سے شکایت (رنج وملال) کرتی تھی۔ خدا نے اس کی التجا سن لی اور خدا تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا سنتا دیکھتا ہے (۱) جو لوگ تم میں سے اپنی عورتوں کو ماں کہہ دیتے ہیں وہ ان کی مائیں نہیں (ہوجاتیں)۔ ان کی مائیں تو وہی ہیں جن کے بطن سے وہ پیدا ہوئے۔ بےشک وہ نامعقول اور جھوٹی بات کہتے ہیں اور خدا بڑا معاف کرنے والا (اور) بخشنے والا ہے (۲) اور جو لوگ اپنی بیویوں کو ماں کہہ بیٹھیں پھر اپنے قول سے رجوع کرلیں تو (ان کو) ہم بستر ہونے سے پہلے ایک غلام آزاد کرنا (ضروری) ہے۔ (مومنو) اس (حکم) سے تم کو نصیحت کی جاتی ہے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے خبردار ہے (۳) جس کو غلام نہ ملے وہ مجامعت سے پہلے متواتر دو مہینے کے روزے (رکھے) جس کو اس کا بھی مقدور نہ ہوا (اسے) ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا (چاہیئے)۔ یہ (حکم) اس لئے (ہے) کہ تم خدا اور اسکے رسول کے فرمانبردار ہوجاؤ۔ اور یہ خدا کی حدیں ہیں۔ اور نہ ماننے والوں کے لئے درد دینے والا عذاب ہے (۴) جو لوگ خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ (اسی طرح) ذلیل کئے جائیں گے جس طرح ان سے پہلے لوگ ذلیل کئے گئے تھے اور ہم نے صاف اور صریح آیتیں نازل کردی ہیں۔ جو نہیں مانتے ان کو ذلت کا عذاب ہوگا (۵) جس دن خدا ان سب کو جلا اٹھائے گا تو جو کام وہ کرتے رہے ان کو جتائے گا۔ خدا کو وہ سب (کام) یاد ہیں اور یہ ان کو بھول گئے ہیں اور خدا ہر چیز سے واقف ہے (۶) کیا تم کو معلوم نہیں کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے خدا کو سب معلوم ہے۔ (کسی جگہ) تین (شخصوں) کا (مجمع اور) کانوں میں صلاح ومشورہ نہیں ہوتا مگر وہ ان میں چوتھا ہوتا ہے اور نہ کہیں پانچ کا مگر وہ ان میں چھٹا ہوتا ہے اور نہ اس سے کم یا زیادہ مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے خواہ وہ کہیں ہوں۔ پھر جو جو کام یہ کرتے رہے ہیں قیامت کے دن وہ (ایک ایک) ان کو بتائے گا۔ بےشک خدا ہر چیز سے واقف ہے (۷) کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو سرگوشیاں کرنے سے منع کیا گیا تھا۔ پھر جس (کام) سے منع کیا گیا تھا وہی پھر کرنے لگے اور یہ تو گناہ اور ظلم اور رسول (خدا) کی نافرمانی کی سرگوشیاں کرتے ہیں۔ اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو جس (کلمے) سے خدا نے تم کو دعا نہیں دی اس سے تمہیں دعا دیتے ہیں۔ اور اپنے دل میں کہتے ہیں کہ (اگر یہ واقعی پیغمبر ہیں تو) جو کچھ ہم کہتے ہیں خدا ہمیں اس کی سزا کیوں نہیں دیتا؟ (اے پیغمبر) ان کو دوزخ (ہی کی سزا) کافی ہے۔ یہ اسی میں داخل ہوں گے۔ اور وہ بری جگہ ہے (۸) مومنو! جب تم آپس میں سرگوشیاں کرنے لگو تو گناہ اور زیادتی اور پیغمبر کی نافرمانی کی باتیں نہ کرنا بلکہ نیکوکاری اور پرہیزگاری کی باتیں کرنا۔ اور خدا سے جس کے سامنے جمع کئے جاؤ گے ڈرتے رہنا (۹) کافروں کی) سرگوشیاں تو شیطان (کی حرکات) سے ہیں (جو) اس لئے (کی جاتی ہیں) کہ مومن (ان سے) غمناک ہوں مگر خدا کے حکم کے سوا ان سے انہیں کچھ نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ تو مومنو کو چاہیئے کہ خدا ہی پر بھروسہ رکھیں (۱۰) مومنو! جب تم سے کہا جائے کہ مجلس میں کھل کر بیٹھو تو کھل بیٹھا کرو۔ خدا تم کو کشادگی بخشے گا۔ اور جب کہا جائے کہ اُٹھ کھڑے ہو تو اُٹھ کھڑے ہوا کرو۔ جو لوگ تم میں سے ایمان لائے ہیں اور جن کو علم عطا کیا گیا ہے خدا ان کے درجے بلند کرے گا۔ اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے (۱۱) مومنو! جب تم پیغمبر کے کان میں کوئی بات کہو تو بات کہنے سے پہلے (مساکین کو) کچھ خیرات دے دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہت بہتر اور پاکیزگی کی بات ہے۔ اور اگر خیرات تم کو میسر نہ آئے تو خدا بخشنے والا مہربان ہے (۱۲) کیا تم اس سےکہ پیغمبر کے کان میں کوئی بات کہنے سے پہلے خیرات دیا کرو ڈر گئے؟ پھر جب تم نے (ایسا) نہ کیا اور خدا نے تمہیں معاف کردیا تو نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے رہو اور خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرتے رہو۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے خبردار ہے (۱۳) بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو ایسوں سے دوستی کرتے ہیں جن پر خدا کا غضب ہوا۔ وہ نہ تم میں ہیں نہ ان میں۔ اور جان بوجھ کر جھوٹی باتوں پر قسمیں کھاتے ہیں (۱۴) خدا نے ان کے لئے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔ یہ جو کچھ کرتے ہیں یقیناً برا ہے (۱۵) انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا لیا اور (لوگوں کو) خدا کے راستے سے روک دیا ہے سو ان کے لئے ذلت کا عذاب ہے (۱۶) خدا کے (عذاب کے) سامنے نہ تو ان کا مال ہی کچھ کام آئے گا اور نہ اولاد ہی (کچھ فائدہ دے گی)۔ یہ لوگ اہل دوزخ ہیں اس میں ہمیشہ (جلتے) رہیں گے (۱۷) جس دن خدا ان سب کو جلا اٹھائے گا تو جس طرح تمہارے سامنے قسمیں کھاتے (اسی طرح) خدا کے سامنے قسمیں کھائیں گے اور خیال کریں گے کہ (ایسا کرنے سے) کام لے نکلے ہیں۔ دیکھو یہ جھوٹے (اور برسر غلط) ہیں (۱۸) شیطان نے ان کو قابو میں کرلیا ہے۔ اور خدا کی یاد ان کو بھلا دی ہے۔ یہ (جماعت) شیطان کا لشکر ہے۔ اور سن رکھو کہ شیطان کا لشکر نقصان اٹھانے والا ہے (۱۹) جو لوگ خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ نہایت ذلیل ہوں گے (۲۰) خدا کا حکم ناطق ہے کہ میں اور میرے پیغمبر ضرور غالب رہیں گے۔ بےشک خدا زورآور (اور) زبردست ہے (۲۱) جو لوگ خدا پر اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہیں تم ان کو خدا اور اس کے رسول کے دشمنوں سے دوستی کرتے ہوئے نہ دیکھو گے۔ خواہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا خاندان ہی کے لوگ ہوں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں خدا نے ایمان (پتھر پر لکیر کی طرح) تحریر کردیا ہے اور فیض غیبی سے ان کی مدد کی ہے۔ اور وہ ان کو بہشتوں میں جن کے تلے نہریں بہہ رہی ہیں داخل کرے گا ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ خدا ان سے خوش اور وہ خدا سے خوش۔ یہی گروہ خدا کا لشکر ہے۔ (اور) سن رکھو کہ خدا ہی کا لشکر مراد حاصل کرنے والا ہے (۲۲)
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
قَدۡ سَمِعَ ٱللَّهُ قَوۡلَ ٱلَّتِى تُجَـٰدِلُكَ فِى زَوۡجِهَا وَتَشۡتَكِىٓ إِلَى ٱللَّهِ وَٱللَّهُ يَسۡمَعُ تَحَاوُرَكُمَآۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعُۢ بَصِيرٌ (١) ٱلَّذِينَ يُظَـٰهِرُونَ مِنكُم مِّن نِّسَآٮِٕهِم مَّا هُنَّ أُمَّهَـٰتِهِمۡۖ إِنۡ أُمَّهَـٰتُهُمۡ إِلَّا ٱلَّـٰٓـِٔى وَلَدۡنَهُمۡۚ وَإِنَّہُمۡ لَيَقُولُونَ مُنڪَرً۬ا مِّنَ ٱلۡقَوۡلِ وَزُورً۬اۚ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَعَفُوٌّ غَفُورٌ۬ (٢) وَٱلَّذِينَ يُظَـٰهِرُونَ مِن نِّسَآٮِٕہِمۡ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُواْ فَتَحۡرِيرُ رَقَبَةٍ۬ مِّن قَبۡلِ أَن يَتَمَآسَّاۚ ذَٲلِكُمۡ تُوعَظُونَ بِهِۦۚ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ خَبِيرٌ۬ (٣) فَمَن لَّمۡ يَجِدۡ فَصِيَامُ شَہۡرَيۡنِ مُتَتَابِعَيۡنِ مِن قَبۡلِ أَن يَتَمَآسَّاۖ فَمَن لَّمۡ يَسۡتَطِعۡ فَإِطۡعَامُ سِتِّينَ مِسۡكِينً۬اۚ ذَٲلِكَ لِتُؤۡمِنُواْ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦۚ وَتِلۡكَ حُدُودُ ٱللَّهِۗ وَلِلۡكَـٰفِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ (٤) إِنَّ ٱلَّذِينَ يُحَآدُّونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُ ۥ كُبِتُواْ كَمَا كُبِتَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡۚ وَقَدۡ أَنزَلۡنَآ ءَايَـٰتِۭ بَيِّنَـٰتٍ۬ۚ وَلِلۡكَـٰفِرِينَ عَذَابٌ۬ مُّهِينٌ۬ (٥) يَوۡمَ يَبۡعَثُهُمُ ٱللَّهُ جَمِيعً۬ا فَيُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُوٓاْۚ أَحۡصَٮٰهُ ٱللَّهُ وَنَسُوهُۚ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىۡءٍ۬ شَہِيدٌ (٦) أَلَمۡ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٲتِ وَمَا فِى ٱلۡأَرۡضِۖ مَا يَڪُونُ مِن نَّجۡوَىٰ ثَلَـٰثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمۡ وَلَا خَمۡسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُہُمۡ وَلَآ أَدۡنَىٰ مِن ذَٲلِكَ وَلَآ أَڪۡثَرَ إِلَّا هُوَ مَعَهُمۡ أَيۡنَ مَا كَانُواْۖ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُواْ يَوۡمَ ٱلۡقِيَـٰمَةِۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِكُلِّ شَىۡءٍ عَلِيمٌ (٧) أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ نُہُواْ عَنِ ٱلنَّجۡوَىٰ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا نُہُواْ عَنۡهُ وَيَتَنَـٰجَوۡنَ بِٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٲنِ وَمَعۡصِيَتِ ٱلرَّسُولِ وَإِذَا جَآءُوكَ حَيَّوۡكَ بِمَا لَمۡ يُحَيِّكَ بِهِ ٱللَّهُ وَيَقُولُونَ فِىٓ أَنفُسِہِمۡ لَوۡلَا يُعَذِّبُنَا ٱللَّهُ بِمَا نَقُولُۚ حَسۡبُهُمۡ جَهَنَّمُ يَصۡلَوۡنَہَاۖ فَبِئۡسَ ٱلۡمَصِيرُ (٨) يَـٰٓأَيُّہَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا تَنَـٰجَيۡتُمۡ فَلَا تَتَنَـٰجَوۡاْ بِٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٲنِ وَمَعۡصِيَتِ ٱلرَّسُولِ وَتَنَـٰجَوۡاْ بِٱلۡبِرِّ وَٱلتَّقۡوَىٰۖ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ ٱلَّذِىٓ إِلَيۡهِ تُحۡشَرُونَ (٩) إِنَّمَا ٱلنَّجۡوَىٰ مِنَ ٱلشَّيۡطَـٰنِ لِيَحۡزُنَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَلَيۡسَ بِضَآرِّهِمۡ شَيۡـًٔا إِلَّا بِإِذۡنِ ٱللَّهِۚ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ (١٠) يَـٰٓأَيُّہَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا قِيلَ لَكُمۡ تَفَسَّحُواْ فِى ٱلۡمَجَـٰلِسِ فَٱفۡسَحُواْ يَفۡسَحِ ٱللَّهُ لَكُمۡۖ وَإِذَا قِيلَ ٱنشُزُواْ فَٱنشُزُواْ يَرۡفَعِ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مِنكُمۡ وَٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡعِلۡمَ دَرَجَـٰتٍ۬ۚ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ خَبِيرٌ۬ (١١) يَـٰٓأَيُّہَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا نَـٰجَيۡتُمُ ٱلرَّسُولَ فَقَدِّمُواْ بَيۡنَ يَدَىۡ نَجۡوَٮٰكُمۡ صَدَقَةً۬ۚ ذَٲلِكَ خَيۡرٌ۬ لَّكُمۡ وَأَطۡهَرُۚ فَإِن لَّمۡ تَجِدُواْ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌ۬ رَّحِيمٌ (١٢) ءَأَشۡفَقۡتُمۡ أَن تُقَدِّمُواْ بَيۡنَ يَدَىۡ نَجۡوَٮٰكُمۡ صَدَقَـٰتٍ۬ۚ فَإِذۡ لَمۡ تَفۡعَلُواْ وَتَابَ ٱللَّهُ عَلَيۡكُمۡ فَأَقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُواْ ٱلزَّكَوٰةَ وَأَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُ ۥۚ وَٱللَّهُ خَبِيرُۢ بِمَا تَعۡمَلُونَ (١٣) ۞ أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ تَوَلَّوۡاْ قَوۡمًا غَضِبَ ٱللَّهُ عَلَيۡہِم مَّا هُم مِّنكُمۡ وَلَا مِنۡہُمۡ وَيَحۡلِفُونَ عَلَى ٱلۡكَذِبِ وَهُمۡ يَعۡلَمُونَ (١٤) أَعَدَّ ٱللَّهُ لَهُمۡ عَذَابً۬ا شَدِيدًاۖ إِنَّهُمۡ سَآءَ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ (١٥) ٱتَّخَذُوٓاْ أَيۡمَـٰنَہُمۡ جُنَّةً۬ فَصَدُّواْ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ فَلَهُمۡ عَذَابٌ۬ مُّهِينٌ۬ (١٦) لَّن تُغۡنِىَ عَنۡہُمۡ أَمۡوَٲلُهُمۡ وَلَآ أَوۡلَـٰدُهُم مِّنَ ٱللَّهِ شَيۡـًٔاۚ أُوْلَـٰٓٮِٕكَ أَصۡحَـٰبُ ٱلنَّارِۖ هُمۡ فِيہَا خَـٰلِدُونَ (١٧) يَوۡمَ يَبۡعَثُہُمُ ٱللَّهُ جَمِيعً۬ا فَيَحۡلِفُونَ لَهُ ۥ كَمَا يَحۡلِفُونَ لَكُمۡۖ وَيَحۡسَبُونَ أَنَّہُمۡ عَلَىٰ شَىۡءٍۚ أَلَآ إِنَّہُمۡ هُمُ ٱلۡكَـٰذِبُونَ (١٨) ٱسۡتَحۡوَذَ عَلَيۡهِمُ ٱلشَّيۡطَـٰنُ فَأَنسَٮٰهُمۡ ذِكۡرَ ٱللَّهِۚ أُوْلَـٰٓٮِٕكَ حِزۡبُ ٱلشَّيۡطَـٰنِۚ أَلَآ إِنَّ حِزۡبَ ٱلشَّيۡطَـٰنِ هُمُ ٱلۡخَـٰسِرُونَ (١٩) إِنَّ ٱلَّذِينَ يُحَآدُّونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُ ۥۤ أُوْلَـٰٓٮِٕكَ فِى ٱلۡأَذَلِّينَ (٢٠) ڪَتَبَ ٱللَّهُ لَأَغۡلِبَنَّ أَنَا۟ وَرُسُلِىٓۚ إِنَّ ٱللَّهَ قَوِىٌّ عَزِيزٌ۬ (٢١) لَّا تَجِدُ قَوۡمً۬ا يُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأَخِرِ يُوَآدُّونَ مَنۡ حَآدَّ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُ ۥ وَلَوۡ ڪَانُوٓاْ ءَابَآءَهُمۡ أَوۡ أَبۡنَآءَهُمۡ أَوۡ إِخۡوَٲنَهُمۡ أَوۡ عَشِيرَتَہُمۡۚ أُوْلَـٰٓٮِٕكَ ڪَتَبَ فِى قُلُوبِہِمُ ٱلۡإِيمَـٰنَ وَأَيَّدَهُم بِرُوحٍ۬ مِّنۡهُۖ وَيُدۡخِلُهُمۡ جَنَّـٰتٍ۬ تَجۡرِى مِن تَحۡتِہَا ٱلۡأَنۡهَـٰرُ خَـٰلِدِينَ فِيهَاۚ رَضِىَ ٱللَّهُ عَنۡہُمۡ وَرَضُواْ عَنۡهُۚ أُوْلَـٰٓٮِٕكَ حِزۡبُ ٱللَّهِۚ أَلَآ إِنَّ حِزۡبَ ٱللَّهِ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ (٢٢)

0 Responses
Stay in touch with the conversation, subscribe to the RSS feed for comments on this post.