In the name of Allah, the Beneficent, the Merciful
Nûn [These letters (Nûn, One of Haroof-e-Muqattyat) are one of the miracles of the Qur'ân, and none but Allâh (Alone) knows their meanings]. By the pen and by those who write (writers). (1) You (O Muhammad SAW) are not, by the Grace of your Lord, a madman (2) And verily, for you (O Muhammad SAW) will be an endless reward. (3) And verily, you (O Muhammad SAW) are on an exalted (most high standard of) character. (4) You will see, and they will see, (5) Which of you is afflicted with madness. (6) Verily, your Lord is Best Knower of him who has gone astray from His Path, and He is the Best Knower of those who are guided. (7) So (O Muhammad SAW) obey you not the deniers. (8) They wish that you should compromise (in religion out of courtesy) with them, so they (too) would compromise with you. (9) And (O Muhammad SAW) obey you not everyone Hallaf Mahin (the one who is liar and swears much). (Tafsir At-Tabari) (10) A slanderer, going about with calumnies, (11) Hinderer of the good, transgressor, sinful (lose character), (12) Cruel, and moreover baseborn (of illegitimate birth). (13) (He is so) because he had wealth and children. (14) When Our Verses (of the Qur’ân) are recited to him, he says: “Tales of the men of old!” (15) [For this] We shall brand him with indelible disgrace! (16) Verily, We have tried them as We tried the people of the garden, when they swore to pluck the fruits of the (garden) in the morning. (17) Without saying: Inshâ’ Allâh (If Allâh wills). (18) Then there passed by on the (garden) visitation (fire) from your Lord at night and burnt it while they were asleep. (19) So the (garden) became black by the morning, like a pitch dark night (in complete ruins). (20) Then they called out one to another as soon as the morning broke, (21) Saying: “Go to your tilth in the morning, if you would pluck the fruits.” (22) So they departed, conversing in secret low tones (saying), (23) No Miskîn (poor man) shall enter upon you into it today. (24) And they went in the morning with strong intention, thinking that they have power (to prevent the poor taking anything of the fruits therefrom). (25) But when they saw the (garden), they said: “Verily, we have gone astray,” (26) (Then they said): “Nay! Indeed we are deprived of (the fruits)!” (27) The best among them said: “Did I not tell you: why say you not: Inshâ’ Allâh (If Allâh wills).” (28) They said: “Glory to Our Lord! Verily, we have been Zâlimûn (wrong-doers).” (29) Then they turned, one against another, blaming. (30) They said: “Woe to us! Verily, we were Tâghûn (transgressors and disobedient). (31) We hope that our Lord will give us in exchange a better (garden) than this. Truly, we turn to our Lord (wishing for good that He may forgive our sins, and reward us in the Hereafter).” (32) Such is the punishment (in this life), but truly, the punishment of the Hereafter is greater, if they but knew. (33) Verily, for the Muttaqûn (pious and righteous persons – see V.2:2) are Gardens of delight (Paradise) with their Lord. (34) Shall We then treat the believers like the Mujrimûn (disbelievers)? (35) What is the matter with you? How judge you? (36) Or have you a Book where in you learn, (37) That you shall therein have all that you choose? (38) Or have you oaths from Us, reaching to the Day of Resurrection that yours will be what you judge? (39) Ask them, which of them will stand surety for that! (40) Or have they “partners”? Then let them bring their “partners” if they are truthful! (41) (Remember) the Day when the Shin[] shall be laid bare (i.e. the Day of Resurrection) and they shall be called to prostrate themselves (to Allâh), but they (hypocrites) shall not be able to do so. (42) Their eyes will be cast down and ignominy will cover them; they used to be called to prostrate themselves (offer prayers), while they were healthy and good (in the life of the world, but they did not). (43) Then leave Me Alone with such as belie this Qur’ân. We shall punish them gradually from directions they perceive not. (44) And I will grant them a respite. Verily, My Plan is strong. (45) And its not that you (O Muhammad SAW) ask them a wage, so that they are heavily burdened with debt? (46) Or that they know the unseen, is in their hands, so that they can write it down? (47) So wait with patience for the Decision of your Lord, and be not like the Companion of the Fish (Jonah)— when he cried out (to Us) while he was in deep sorrow and anger. (See the Qur’ân, Verse 21:87). (48) Had not a Grace from his Lord reached him, he would indeed have been (left in the stomach of the fish, but We forgave him), so he was cast off on the naked shore, while he was to be blamed. (49) Then his Lord chose him and made him of the righteous. (50) And verily, those who disbelieve would almost make you slip with their eyes (through hatred) when they hear the Reminder (the Qur’ân), and they say: “Verily, he (Muhammad SAW) is a madman!” (51) But it is nothing else than a Reminder to all the ‘Alamîn (mankind, jinn and all that exists). (52)
شروع الله کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
نٓ۔ قلم کی اور جو (اہل قلم) لکھتے ہیں اس کی قسم (۱) کہ (اے محمدﷺ) تم اپنے پروردگار کے فضل سے دیوانے نہیں ہو (۲) اور تمہارے لئے بے انتہا اجر ہے (۳) اور اخلاق تمہارے بہت (عالی) ہیں (۴) سو عنقریب تم بھی دیکھ لو گے اور یہ (کافر) بھی دیکھ لیں گے (۵) کہ تم میں سے کون دیوانہ ہے (۶) تمہارا پروردگار اس کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کے رستے سے بھٹک گیا اور ان کو بھی خوب جانتا ہے جو سیدھے راستے پر چل رہے ہیں (۷) تو تم جھٹلانے والوں کا کہا نہ ماننا (۸) یہ لوگ چاہتے ہیں کہ تم نرمی اختیار کرو تو یہ بھی نرم ہوجائیں (۹) اور کسی ایسے شخص کے کہے میں نہ آجانا جو بہت قسمیں کھانے والا ذلیل اوقات ہے (۱۰) طعن آمیز اشارتیں کرنے والا چغلیاں لئے پھرنے والا (۱۱) مال میں بخل کرنے والا حد سے بڑھا ہوا بدکار (۱۲) سخت خو اور اس کے علاوہ بدذات ہے (۱۳) اس سبب سے کہ مال اور بیٹے رکھتا ہے (۱۴) جب اس کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے کہ یہ اگلے لوگوں کے افسانے ہیں (۱۵) ہم عنقریب اس کی ناک پر داغ لگائیں گے (۱۶) ہم نے ان لوگوں کی اسی طرح آزمائش کی ہے جس طرح باغ والوں کی آزمائش کی تھی۔ جب انہوں نے قسمیں کھا کھا کر کہا کہ صبح ہوتے ہوتے ہم اس کا میوہ توڑ لیں گے (۱۷) اور انشاء الله نہ کہا (۱۸) سو وہ ابھی سو ہی رہے تھے کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے (راتوں رات) اس پر ایک آفت پھر گئی (۱۹) تو وہ ایسا ہوگیا جیسے کٹی ہوئی کھیتی (۲۰) جب صبح ہوئی تو وہ لوگ ایک دوسرے کو پکارنے لگے (۲۱) اگر تم کو کاٹنا ہے تو اپنی کھیتی پر سویرے ہی جا پہنچو (۲۲) تو وہ چل پڑے اور آپس میں چپکے چپکے کہتے جاتے تھے (۲۳) آج یہاں تمہارے پاس کوئی فقیر نہ آنے پائے (۲۴) اور کوشش کے ساتھ سویرے ہی جا پہنچے (گویا کھیتی پر) قادر ہیں (۲۵) جب باغ کو دیکھا تو (ویران) کہنے لگے کہ ہم رستہ بھول گئے ہیں (۲۶) نہیں بلکہ ہم (برگشتہ نصیب) بےنصیب ہیں (۲۷) ایک جو اُن میں فرزانہ تھا بولا کہ کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے؟ (۲۸) (تب) وہ کہنے لگے کہ ہمارا پروردگار پاک ہے بےشک ہم ہی قصوروار تھے (۲۹) پھر لگے ایک دوسرے کو رو در رو ملامت کرنے (۳۰) کہنے لگے ہائے شامت ہم ہی حد سے بڑھ گئے تھے (۳۱) امید ہے کہ ہمارا پروردگار اس کے بدلے میں ہمیں اس سے بہتر باغ عنایت کرے ہم اپنے پروردگار کی طرف سے رجوع لاتے ہیں (۳۲) (دیکھو) عذاب یوں ہوتا ہے۔ اور آخرت کا عذاب اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ کاش! یہ لوگ جانتے ہوتے (۳۳) پرہیزگاروں کے لئے ان کے پروردگار کے ہاں نعمت کے باغ ہیں (۳۴) کیا ہم فرمانبرداروں کو نافرمانوں کی طرف (نعمتوں سے) محروم کردیں گے؟ (۳۵) تمہیں کیا ہوگیا ہے کیسی تجویزیں کرتے ہو؟ (۳۶) کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں (یہ) پڑھتے ہو (۳۷) کہ جو چیز تم پسند کرو گے وہ تم کو ضرور ملے گی (۳۸) یا تم نے ہم سے قسمیں لے رکھی ہیں جو قیامت کے دن تک چلی جائیں گی کہ جس شے کا تم حکم کرو گے وہ تمہارے لئے حاضر ہوگی (۳۹) ان سے پوچھو کہ ان میں سے اس کا کون ذمہ لیتا ہے؟ (۴۰) کیا (اس قول میں) ان کے اور بھی شریک ہیں؟ اگر یہ سچے ہیں تو اپنے شریکوں کو لا سامنے کریں (۴۱) جس دن پنڈلی سے کپڑا اٹھا دیا جائے گا اور کفار سجدے کے لئے بلائے جائیں گے تو سجدہ نہ کرسکیں گے (۴۲) ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی اور ان پر ذلت چھا رہی ہوگی حالانکہ پہلے (اُس وقت) سجدے کے لئے بلاتے جاتے تھے جب کہ صحیح وسالم تھے (۴۳) تو مجھ کو اس کلام کے جھٹلانے والوں سے سمجھ لینے دو۔ ہم ان کو آہستہ آہستہ ایسے طریق سے پکڑیں گے کہ ان کو خبر بھی نہ ہوگی (۴۴) اور میں ان کو مہلت دیئے جاتا ہوں میری تدبیر قوی ہے (۴۵) کیا تم ان سے کچھ اجر مانگتے ہو کہ ان پر تاوان کا بوجھ پڑ رہا ہے (۴۶) یا ان کے پاس غیب کی خبر ہے کہ (اسے) لکھتے جاتے ہیں (۴۷) تو اپنے پروردگار کے حکم کے انتظار میں صبر کئے رہو اور مچھلی (کا لقمہ ہونے) والے یونس کی طرح رہو نا کہ انہوں نے (خدا) کو پکارا اور وہ (غم و) غصے میں بھرے ہوئے تھے (۴۸) اگر تمہارے پروردگار کی مہربانی ان کی یاوری نہ کرتی تو وہ چٹیل میدان میں ڈال دیئے جاتے اور ان کا حال ابتر ہوجاتا (۴۹) پھر پروردگار نے ان کو برگزیدہ کرکے نیکوکاروں میں کرلیا (۵۰) اور کافر جب (یہ) نصیحت (کی کتاب) سنتے ہیں تو یوں لگتے ہیں کہ تم کو اپنی نگاہوں سے پھسلا دیں گے اور کہتے یہ تو دیوانہ ہے (۵۱) اور (لوگو) یہ (قرآن) اہل عالم کے لئے نصیحت ہے (۵۲)
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
نٓۚ وَٱلۡقَلَمِ وَمَا يَسۡطُرُونَ (١) مَآ أَنتَ بِنِعۡمَةِ رَبِّكَ بِمَجۡنُونٍ۬ (٢) وَإِنَّ لَكَ لَأَجۡرًا غَيۡرَ مَمۡنُونٍ۬ (٣) وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ۬ (٤) فَسَتُبۡصِرُ وَيُبۡصِرُونَ (٥) بِأَييِّكُمُ ٱلۡمَفۡتُونُ (٦) إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعۡلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِۦ وَهُوَ أَعۡلَمُ بِٱلۡمُهۡتَدِينَ (٧) فَلَا تُطِعِ ٱلۡمُكَذِّبِينَ (٨) وَدُّواْ لَوۡ تُدۡهِنُ فَيُدۡهِنُونَ (٩) وَلَا تُطِعۡ كُلَّ حَلَّافٍ۬ مَّهِينٍ (١٠) هَمَّازٍ۬ مَّشَّآءِۭ بِنَمِيمٍ۬ (١١) مَّنَّاعٍ۬ لِّلۡخَيۡرِ مُعۡتَدٍ أَثِيمٍ (١٢) عُتُلِّۭ بَعۡدَ ذَٲلِكَ زَنِيمٍ (١٣) أَن كَانَ ذَا مَالٍ۬ وَبَنِينَ (١٤) إِذَا تُتۡلَىٰ عَلَيۡهِ ءَايَـٰتُنَا قَالَ أَسَـٰطِيرُ ٱلۡأَوَّلِينَ (١٥) سَنَسِمُهُ ۥ عَلَى ٱلۡخُرۡطُومِ (١٦) إِنَّا بَلَوۡنَـٰهُمۡ كَمَا بَلَوۡنَآ أَصۡحَـٰبَ ٱلۡجَنَّةِ إِذۡ أَقۡسَمُواْ لَيَصۡرِمُنَّہَا مُصۡبِحِينَ (١٧) وَلَا يَسۡتَثۡنُونَ (١٨) فَطَافَ عَلَيۡہَا طَآٮِٕفٌ۬ مِّن رَّبِّكَ وَهُمۡ نَآٮِٕمُونَ (١٩) فَأَصۡبَحَتۡ كَٱلصَّرِيمِ (٢٠) فَتَنَادَوۡاْ مُصۡبِحِينَ (٢١) أَنِ ٱغۡدُواْ عَلَىٰ حَرۡثِكُمۡ إِن كُنتُمۡ صَـٰرِمِينَ (٢٢) فَٱنطَلَقُواْ وَهُمۡ يَتَخَـٰفَتُونَ (٢٣) أَن لَّا يَدۡخُلَنَّہَا ٱلۡيَوۡمَ عَلَيۡكُم مِّسۡكِينٌ۬ (٢٤) وَغَدَوۡاْ عَلَىٰ حَرۡدٍ۬ قَـٰدِرِينَ (٢٥) فَلَمَّا رَأَوۡهَا قَالُوٓاْ إِنَّا لَضَآلُّونَ (٢٦) بَلۡ نَحۡنُ مَحۡرُومُونَ (٢٧) قَالَ أَوۡسَطُهُمۡ أَلَمۡ أَقُل لَّكُمۡ لَوۡلَا تُسَبِّحُونَ (٢٨) قَالُواْ سُبۡحَـٰنَ رَبِّنَآ إِنَّا كُنَّا ظَـٰلِمِينَ (٢٩) فَأَقۡبَلَ بَعۡضُہُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٍ۬ يَتَلَـٰوَمُونَ (٣٠) قَالُواْ يَـٰوَيۡلَنَآ إِنَّا كُنَّا طَـٰغِينَ (٣١) عَسَىٰ رَبُّنَآ أَن يُبۡدِلَنَا خَيۡرً۬ا مِّنۡہَآ إِنَّآ إِلَىٰ رَبِّنَا رَٲغِبُونَ (٣٢) كَذَٲلِكَ ٱلۡعَذَابُۖ وَلَعَذَابُ ٱلۡأَخِرَةِ أَكۡبَرُۚ لَوۡ كَانُواْ يَعۡلَمُونَ (٣٣) إِنَّ لِلۡمُتَّقِينَ عِندَ رَبِّہِمۡ جَنَّـٰتِ ٱلنَّعِيمِ (٣٤) أَفَنَجۡعَلُ ٱلۡمُسۡلِمِينَ كَٱلۡمُجۡرِمِينَ (٣٥) مَا لَكُمۡ كَيۡفَ تَحۡكُمُونَ (٣٦) أَمۡ لَكُمۡ كِتَـٰبٌ۬ فِيهِ تَدۡرُسُونَ (٣٧) إِنَّ لَكُمۡ فِيهِ لَمَا تَخَيَّرُونَ (٣٨) أَمۡ لَكُمۡ أَيۡمَـٰنٌ عَلَيۡنَا بَـٰلِغَةٌ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡقِيَـٰمَةِۙ إِنَّ لَكُمۡ لَمَا تَحۡكُمُونَ (٣٩) سَلۡهُمۡ أَيُّهُم بِذَٲلِكَ زَعِيمٌ (٤٠) أَمۡ لَهُمۡ شُرَكَآءُ فَلۡيَأۡتُواْ بِشُرَكَآٮِٕہِمۡ إِن كَانُواْ صَـٰدِقِينَ (٤١) يَوۡمَ يُكۡشَفُ عَن سَاقٍ۬ وَيُدۡعَوۡنَ إِلَى ٱلسُّجُودِ فَلَا يَسۡتَطِيعُونَ (٤٢) خَـٰشِعَةً أَبۡصَـٰرُهُمۡ تَرۡهَقُهُمۡ ذِلَّةٌ۬ۖ وَقَدۡ كَانُواْ يُدۡعَوۡنَ إِلَى ٱلسُّجُودِ وَهُمۡ سَـٰلِمُونَ (٤٣) فَذَرۡنِى وَمَن يُكَذِّبُ بِہَـٰذَا ٱلۡحَدِيثِۖ سَنَسۡتَدۡرِجُهُم مِّنۡ حَيۡثُ لَا يَعۡلَمُونَ (٤٤) وَأُمۡلِى لَهُمۡۚ إِنَّ كَيۡدِى مَتِينٌ (٤٥) أَمۡ تَسۡـَٔلُهُمۡ أَجۡرً۬ا فَهُم مِّن مَّغۡرَمٍ۬ مُّثۡقَلُونَ (٤٦) أَمۡ عِندَهُمُ ٱلۡغَيۡبُ فَهُمۡ يَكۡتُبُونَ (٤٧) فَٱصۡبِرۡ لِحُكۡمِ رَبِّكَ وَلَا تَكُن كَصَاحِبِ ٱلۡحُوتِ إِذۡ نَادَىٰ وَهُوَ مَكۡظُومٌ۬ (٤٨) لَّوۡلَآ أَن تَدَٲرَكَهُ ۥ نِعۡمَةٌ۬ مِّن رَّبِّهِۦ لَنُبِذَ بِٱلۡعَرَآءِ وَهُوَ مَذۡمُومٌ۬ (٤٩) فَٱجۡتَبَـٰهُ رَبُّهُ ۥ فَجَعَلَهُ ۥ مِنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ (٥٠) وَإِن يَكَادُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَيُزۡلِقُونَكَ بِأَبۡصَـٰرِهِمۡ لَمَّا سَمِعُواْ ٱلذِّكۡرَ وَيَقُولُونَ إِنَّهُ ۥ لَمَجۡنُونٌ۬ (٥١) وَمَا هُوَ إِلَّا ذِكۡرٌ۬ لِّلۡعَـٰلَمِينَ (٥٢)

0 Responses
Stay in touch with the conversation, subscribe to the RSS feed for comments on this post.