In the name of Allah, the Beneficent, the Merciful
The Inevitable (i.e. the Day of Resurrection)! (1) What is the Inevitable? (2) And what will make you know what the Inevitable is? (3) Thamûd and ‘Ad people denied the Qâri’ah [the striking Hour (of Judgement)]! (4) As for Thamûd, they were destroyed by the awful cry! (5) And as for ‘Ad, they were destroyed by a furious violent wind! (6) Which Allâh imposed on them for seven nights and eight days in succession, so that you could see men lying overthrown (destroyed), as if they were hollow trunks of date-palms! (7) Do you see any remnants of them? (8) And Fir’aun (Pharaoh), and those before him, and the cities overthrown [the towns of the people of [Lut (Lot)] committed sin, (9) And they disobeyed their Lord’s Messenger, so He seized them with a strong punishment. (10) Verily! When the water rose beyond its limits [Nûh's (Noah) Flood], We carried you (mankind) in the floating [ship that was constructed by Nûh (Noah)]. (11) That We might make it a (Noah’s ship)an admonition for you, and that it might be retained by the ears. (12) Then when the Trumpet will be blown with one blowing (the first one), (13) And the earth and the mountains shall be removed from their places, and crushed with a single crushing. (14) Then on that Day shall the (Great) Event befall. (15) And the heaven will berent asunder, for that Day it (the heaven) will be frail, and torn up. (16) And the angels will be on its sides, and eight angels will, that Day, bear the Throne of your Lord above them. (17) That Day shall you be brought to Judgement, not a secret of you will be hidden. (18) Then as for him who will be given his Record in his right hand will say: “Here! read my Record! (19) “Surely, I did believe that I shall meet my Account!” (20) So he shall be in a life, well-pleasing. (21) In a lofty Paradise, (22) The fruits in bunches whereof will be low and near at hand. (23) Eat and drink at ease for that which you have sent on before you in days past! (24) But as for him who will be given his Record in his left hand, will say: “I wish that I had not been given my Record! (25) “And that I had never known, how my Account is! (26) “Would that it had been my end (death)! (27) “My wealth has not availed me; (28) “My power (and arguments to defend myself) have gone from me!” (29) (It will be said): “Seize him and fetter him; (30) Then throw him in the blazing Fire. (31) “Then fasten him with a chain whereof the length is seventy cubits!” (32) Verily, He used not to believe in Allâh, the Most Great, (33) And urged not on the feeding of Al¬Miskîn (the poor),[] (34) So no friend has he here this Day, (35) Nor any food except filth from the washing of wounds, (36) None will eat it except the Khâti’ûn (sinners, disbelievers, polytheists). (37) So I swear by whatsoever you see, (38) And by whatsoever you see not, (39) That this is verily the word of an honoured Messenger [i.e. Jibril (Gabriel) or Muhammad SAW which he has brought from Allâh]. (40) It is not the word of a poet, little is that you believe! (41) Nor is it the word of a soothsayer (or a foreteller), little is that you remember! (42) This is the Revelation sent down from the Lord of the ‘Alamin (mankind, jinn and all that exists). (43) And if he had forged a false saying concerning Us (Allâh swt), (44) We surely would have seized him by his right hand (or with power and might), (45) And then we certainly would have cut off his life artery (Aorta), (46) And none of you could witheld Us from (punishing) him. (47) And verily, this (Qur’ân) is a Reminder for the Muttaqûn (pious – see V.2:2) (48) And verily, We know that there are some among you that belie (this Qur’ân). (Tafsir At-Tabarî) (49) And indeed it (this Qur’ân) will be an anguish for the disbelievers (on the Day of Resurrection).[] (50) And Verily, it (this Qur’ân) is an absolute truth with certainty[] (51) So glorify the Name of your Lord, the Most Great.[] (52)
شروع الله کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
سچ مچ ہونے والی (۱) وہ سچ مچ ہونے والی کیا ہے؟ (۲) اور تم کو کیا معلوم ہے کہ سچ مچ ہونے والی کیا ہے؟ (۳) (وہی) کھڑکھڑانے والی (جس) کو ثمود اور عاد (دونوں) نے جھٹلایا (۴) سو ثمود تو کڑک سے ہلاک کردیئے گئے (۵) رہے عاد تو ان کا نہایت تیز آندھی سے ستیاناس کردیا گیا (۶) خدا نے اس کو سات رات اور آٹھ دن لگاتار ان پر چلائے رکھا تو (اے مخاطب) تو لوگوں کو اس میں (اس طرح) ڈھئے (اور مرے) پڑے دیکھے جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے (۷) بھلا تو ان میں سے کسی کو بھی باقی دیکھتا ہے؟ (۸) اور فرعون اور جو لوگ اس سے پہلے تھے اور وہ جو الٹی بستیوں میں رہتے تھے سب گناہ کے کام کرتے تھے (۹) انہوں نے اپنے پروردگار کے پیغمبر کی نافرمانی کی تو خدا نے بھی ان کو بڑا سخت پکڑا (۱۰) جب پانی طغیانی پر آیا تو ہم نے تم (لوگوں )کو کشتی میں سوار کرلیا (۱۱) تاکہ اس کو تمہارے لئے یادگار بنائیں اور یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھیں (۱۲) تو جب صور میں ایک (بار) پھونک مار دی جائے گی (۱۳) اور زمین اور پہاڑ دونوں اٹھا لئے جائیں گے۔ پھر ایک بارگی توڑ پھوڑ کر برابر کردیئے جائیں گے (۱۴) تو اس روز ہو پڑنے والی (یعنی قیامت) ہو پڑے گی (۱۵) اور آسمان پھٹ جائے گا تو وہ اس دن کمزور ہوگا (۱۶) اور فرشتے اس کے کناروں پر (اُتر آئیں گے) اور تمہارے پروردگار کے عرش کو اس روز آٹھ فرشتے اپنے سروں پر اُٹھائے ہوں گے (۱۷) اس روز تم (سب لوگوں کے سامنے) پیش کئے جاؤ گے اور تمہاری کوئی پوشیدہ بات چھپی نہ رہے گی (۱۸) تو جس کا (اعمال) نامہ اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ (دوسروں سے) کہے گا کہ لیجیئے میرا نامہ (اعمال) پڑھیئے (۱۹) مجھے یقین تھا کہ مجھ کو میرا حساب (کتاب) ضرور ملے گا (۲۰) پس وہ (شخص) من مانے عیش میں ہوگا (۲۱) (یعنی) اونچے (اونچے محلوں) کے باغ میں (۲۲) جن کے میوے جھکے ہوئے ہوں گے (۲۳) جو (عمل) تم ایام گزشتہ میں آگے بھیج چکے ہو اس کے صلے میں مزے سے کھاؤ اور پیو (۲۴) اور جس کا نامہ (اعمال) اس کے بائیں ہاتھ میں یاد جائے گا وہ کہے گا اے کاش مجھ کو میرا (اعمال) نامہ نہ دیا جاتا (۲۵) اور مجھے معلوم نہ ہو کہ میرا حساب کیا ہے (۲۶) اے کاش موت (ابد الاآباد کے لئے میرا کام) تمام کرچکی ہوتی (۲۷) آج) میرا مال میرے کچھ بھی کام بھی نہ آیا (۲۸) (ہائے) میری سلطنت خاک میں مل گئی (۲۹) (حکم ہوگا کہ) اسے پکڑ لو اور طوق پہنا دو (۳۰) پھر دوزخ کی آگ میں جھونک دو (۳۱) پھر زنجیر سے جس کی ناپ ستر گز ہے جکڑ دو (۳۲) یہ نہ تو خدائے جل شانہ پر ایمان لاتا تھا (۳۳) اور نہ فقیر کے کھانا کھلانے پر آمادہ کرتا تھا (۳۴) سو آج اس کا بھی یہاں کوئی دوستدار نہیں (۳۵) اور نہ پیپ کے سوا (اس کے لئے) کھانا ہے (۳۶) جس کو گنہگاروں کے سوا کوئی نہیں کھائے گا (۳۷) تو ہم کو ان چیزوں کی قسم جو تم کو نظر آتی ہیں (۳۸) اور ان کی جو نظر میں نہیں آتیں (۳۹) کہ یہ (قرآن) فرشتہٴ عالی مقام کی زبان کا پیغام ہے (۴۰) اور یہ کسی شاعر کا کلام نہیں۔ مگر تم لوگ بہت ہی کم ایمان لاتے ہو (۴۱) اور نہ کسی کاہن کے مزخرفات ہیں۔ لیکن تم لوگ بہت ہی کم فکر کرتے ہو (۴۲) یہ تو) پروردگار عالم کا اُتارا (ہوا) ہے (۴۳) اگر یہ پیغمبر ہماری نسبت کوئی بات جھوٹ بنا لاتے (۴۴) تو ہم ان کا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے (۴۵) پھر ان کی رگ گردن کاٹ ڈالتے (۴۶) پھر تم میں سے کوئی (ہمیں) اس سے روکنے والا نہ ہوتا (۴۷) اور یہ (کتاب) تو پرہیزگاروں کے لئے نصیحت ہے (۴۸) اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے بعض اس کو جھٹلانے والے ہیں (۴۹) نیز یہ کافروں کے لئے (موجب) حسرت ہے (۵۰) اور کچھ شک نہیں کہ یہ برحق قابل یقین ہے (۵۱) سو تم اپنے پروردگار عزوجل کے نام کی تنزیہ کرتے رہو (۵۲)
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
ٱلۡحَآقَّةُ (١) مَا ٱلۡحَآقَّةُ (٢) وَمَآ أَدۡرَٮٰكَ مَا ٱلۡحَآقَّةُ (٣) كَذَّبَتۡ ثَمُودُ وَعَادُۢ بِٱلۡقَارِعَةِ (٤) فَأَمَّا ثَمُودُ فَأُهۡلِڪُواْ بِٱلطَّاغِيَةِ (٥) وَأَمَّا عَادٌ۬ فَأُهۡلِڪُواْ بِرِيحٍ۬ صَرۡصَرٍ عَاتِيَةٍ۬ (٦) سَخَّرَهَا عَلَيۡہِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ۬ وَثَمَـٰنِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومً۬ا فَتَرَى ٱلۡقَوۡمَ فِيہَا صَرۡعَىٰ كَأَنَّہُمۡ أَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ۬ (٧) فَهَلۡ تَرَىٰ لَهُم مِّنۢ بَاقِيَةٍ۬ (٨) وَجَآءَ فِرۡعَوۡنُ وَمَن قَبۡلَهُ ۥ وَٱلۡمُؤۡتَفِكَـٰتُ بِٱلۡخَاطِئَةِ (٩) فَعَصَوۡاْ رَسُولَ رَبِّہِمۡ فَأَخَذَهُمۡ أَخۡذَةً۬ رَّابِيَةً (١٠) إِنَّا لَمَّا طَغَا ٱلۡمَآءُ حَمَلۡنَـٰكُمۡ فِى ٱلۡجَارِيَةِ (١١) لِنَجۡعَلَهَا لَكُمۡ تَذۡكِرَةً۬ وَتَعِيَہَآ أُذُنٌ۬ وَٲعِيَةٌ۬ (١٢) فَإِذَا نُفِخَ فِى ٱلصُّورِ نَفۡخَةٌ۬ وَٲحِدَةٌ۬ (١٣) وَحُمِلَتِ ٱلۡأَرۡضُ وَٱلۡجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً۬ وَٲحِدَةً۬ (١٤) فَيَوۡمَٮِٕذٍ۬ وَقَعَتِ ٱلۡوَاقِعَةُ (١٥) وَٱنشَقَّتِ ٱلسَّمَآءُ فَهِىَ يَوۡمَٮِٕذٍ۬ وَاهِيَةٌ۬ (١٦) وَٱلۡمَلَكُ عَلَىٰٓ أَرۡجَآٮِٕهَاۚ وَيَحۡمِلُ عَرۡشَ رَبِّكَ فَوۡقَهُمۡ يَوۡمَٮِٕذٍ۬ ثَمَـٰنِيَةٌ۬ (١٧) يَوۡمَٮِٕذٍ۬ تُعۡرَضُونَ لَا تَخۡفَىٰ مِنكُمۡ خَافِيَةٌ۬ (١٨) فَأَمَّا مَنۡ أُوتِىَ كِتَـٰبَهُ ۥ بِيَمِينِهِۦ فَيَقُولُ هَآؤُمُ ٱقۡرَءُواْ كِتَـٰبِيَهۡ (١٩) إِنِّى ظَنَنتُ أَنِّى مُلَـٰقٍ حِسَابِيَهۡ (٢٠) فَهُوَ فِى عِيشَةٍ۬ رَّاضِيَةٍ۬ (٢١) فِى جَنَّةٍ عَالِيَةٍ۬ (٢٢) قُطُوفُهَا دَانِيَةٌ۬ (٢٣) كُلُواْ وَٱشۡرَبُواْ هَنِيٓـَٔۢا بِمَآ أَسۡلَفۡتُمۡ فِى ٱلۡأَيَّامِ ٱلۡخَالِيَةِ (٢٤) وَأَمَّا مَنۡ أُوتِىَ كِتَـٰبَهُ ۥ بِشِمَالِهِۦ فَيَقُولُ يَـٰلَيۡتَنِى لَمۡ أُوتَ كِتَـٰبِيَهۡ (٢٥) وَلَمۡ أَدۡرِ مَا حِسَابِيَهۡ (٢٦) يَـٰلَيۡتَہَا كَانَتِ ٱلۡقَاضِيَةَ (٢٧) مَآ أَغۡنَىٰ عَنِّى مَالِيَهۡۜ (٢٨) هَلَكَ عَنِّى سُلۡطَـٰنِيَهۡ (٢٩) خُذُوهُ فَغُلُّوهُ (٣٠) ثُمَّ ٱلۡجَحِيمَ صَلُّوهُ (٣١) ثُمَّ فِى سِلۡسِلَةٍ۬ ذَرۡعُهَا سَبۡعُونَ ذِرَاعً۬ا فَٱسۡلُكُوهُ (٣٢) إِنَّهُ ۥ كَانَ لَا يُؤۡمِنُ بِٱللَّهِ ٱلۡعَظِيمِ (٣٣) وَلَا يَحُضُّ عَلَىٰ طَعَامِ ٱلۡمِسۡكِينِ (٣٤) فَلَيۡسَ لَهُ ٱلۡيَوۡمَ هَـٰهُنَا حَمِيمٌ۬ (٣٥) وَلَا طَعَامٌ إِلَّا مِنۡ غِسۡلِينٍ۬ (٣٦) لَّا يَأۡكُلُهُ ۥۤ إِلَّا ٱلۡخَـٰطِـُٔونَ (٣٧) فَلَآ أُقۡسِمُ بِمَا تُبۡصِرُونَ (٣٨) وَمَا لَا تُبۡصِرُونَ (٣٩) إِنَّهُ ۥ لَقَوۡلُ رَسُولٍ۬ كَرِيمٍ۬ (٤٠) وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَاعِرٍ۬ۚ قَلِيلاً۬ مَّا تُؤۡمِنُونَ (٤١) وَلَا بِقَوۡلِ كَاهِنٍ۬ۚ قَلِيلاً۬ مَّا تَذَكَّرُونَ (٤٢) تَنزِيلٌ۬ مِّن رَّبِّ ٱلۡعَـٰلَمِينَ (٤٣) وَلَوۡ تَقَوَّلَ عَلَيۡنَا بَعۡضَ ٱلۡأَقَاوِيلِ (٤٤) لَأَخَذۡنَا مِنۡهُ بِٱلۡيَمِينِ (٤٥) ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡهُ ٱلۡوَتِينَ (٤٦) فَمَا مِنكُم مِّنۡ أَحَدٍ عَنۡهُ حَـٰجِزِينَ (٤٧) وَإِنَّهُ ۥ لَتَذۡكِرَةٌ۬ لِّلۡمُتَّقِينَ (٤٨) وَإِنَّا لَنَعۡلَمُ أَنَّ مِنكُم مُّكَذِّبِينَ (٤٩) وَإِنَّهُ ۥ لَحَسۡرَةٌ عَلَى ٱلۡكَـٰفِرِينَ (٥٠) وَإِنَّهُ ۥ لَحَقُّ ٱلۡيَقِينِ (٥١) فَسَبِّحۡ بِٱسۡمِ رَبِّكَ ٱلۡعَظِيمِ (٥٢)

wooooooooooow woRld muslim!!!!!!!!!!!!!
I Think How Ever Wrote this is amazing outstan
ding
hello do i know you