Skip to content

Categories:

The Quran (Chapter 71) Nooh (Noah) سورة نُوح

Nooh
In the name of Allah, the Beneficent, the Merciful

Verily, We sent Nûh (Noah) to his people (Saying): “Warn your people before there comes to them a painful torment.” (1) He said: “O my people! Verily, I am a plain warner to you, (2) “That you should worship Allâh (Alone), be dutiful to Him, and obey me, (3) “He (Allâh) will forgive you of your sins and respite you to an appointed term. Verily, the term of Allâh when it comes, cannot be delayed, if you but knew.” (4) He said: “O my Lord! Verily, I have called my people night and day (i.e. secretly and openly to accept the doctrine of Islâmic Monotheism)[] , (5) “But all my calling added nothing but to (their) flight (from the truth) (6) “And verily, every time I called unto them that You might forgive them, they thrust their fingers into their ears, covered themselves up with their garments, and persisted (in their refusal), and magnified themselves in pride. (7) “Then verily, I called to them openly (aloud); (8) “Then verily, I proclaimed to them in public, and I have appealed to them in private, (9) “I said (to them): ‘Ask forgiveness from your Lord; Verily, He is Oft-Forgiving; (10) ‘He will send rain to you in abundance; (11) ‘And give you increase in wealth and children, and bestow on you gardens and bestow on you rivers.’ ” (12) What is the matter with you, that [you fear not Allâh (His punishment), and] you hope not for reward (from Allâh or you believe not in His Oneness). (13) While He has created you in (different) stages [i.e. first Nutfah, then 'Alaqah and then Mudghah, see (VV.23:13,14)]. (14) See you not how Allâh has created the seven heavens one above another, (15) And has made the moon a light therein, and made the sun a lamp? (16) And Allâh has brought you forth from the (dust of) earth. (Tafsir At-Tabarî) (17) Afterwards He will return you into it (the earth), and bring you forth (again on the Day of Resurrection)? (18) And Allâh has made for you the earth a wide expanse. (19) That you may go about therein in broad roads. (20) Nûh (Noah) said: “My Lord! They have disobeyed me, and followed one whose wealth and children give him no increase but loss. (21) “And they have plotted a mighty plot. (22) “And they have said: ‘You shall not leave your gods, nor shall you leave Wadd, nor Suwâ’, nor Yaghûth, nor Ya’ûq, nor Nasr (these are the names of their idols). (23) “And indeed they have led many astray. And (O Allâh): ‘Grant no increase to the Zâlimûn (polytheists, wrong-doers, and disbelievers) save error.’ ” (24) Because of their sins they were drowned, then were made to enter the Fire, and they found none to help them instead of Allâh. (25) And Nûh (Noah) said: “My Lord! Leave not one of the disbelievers on the earth! (26) “If You leave them, they will mislead Your slaves, and they will beget none but wicked disbelievers.” (27) “My Lord! Forgive me, and my parents, and him who enters my home as a believer, and all the believing men and women. And to the Zâlimûn (polytheists, wrong-doers, and disbelievers) grant You no increase but destruction!” (28)

سورة نُوح
شروع الله کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

ہم نے نوحؑ کو ان کی قوم کی طرف بھیجا کہ پیشتر اس کے کہ ان پر درد دینے والا عذاب واقع ہو اپنی قوم کو ہدایت کردو (۱) انہوں نے کہا کہ اے قوم! میں تم کو کھلے طور پر نصیحت کرتا ہوں (۲) کہ خدا کی عبات کرو اور اس سے ڈرو اور میرا کہا مانو (۳) وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور (موت کے) وقت مقررہ تک تم کو مہلت عطا کرے گا۔ جب خدا کا مقرر کیا ہوگا وقت آجاتا ہے تو تاخیر نہیں ہوتی۔ کاش تم جانتے ہوتے (۴) جب لوگوں نے نہ مانا تو (نوحؑ نے) خدا سے عرض کی کہ پروردگار میں اپنی قوم کو رات دن بلاتا رہا (۵) لیکن میرے بلانے سے وہ اور زیادہ گزیر کرتے رہے (۶) جب جب میں نے ان کو بلایا کہ (توبہ کریں اور) تو ان کو معاف فرمائے تو انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور کپڑے اوڑھ لئے اور اڑ گئے اور اکڑ بیٹھے (۷) پھر میں ان کو کھلے طور پر بھی بلاتا رہا (۸) اور ظاہر اور پوشیدہ ہر طرح سمجھاتا رہا (۹) اور کہا کہ اپنے پروردگار سے معافی مانگو کہ وہ بڑا معاف کرنے والا ہے (۱۰) وہ تم پر آسمان سے لگاتار مینہ برسائے گا (۱۱) اور مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہیں باغ عطا کرے گا اور ان میں تمہارے لئے نہریں بہا دے گا (۱۲) تم کو کیا ہوا ہے کہ تم خدا کی عظمت کا اعتقاد نہیں رکھتے (۱۳) حالانکہ اس نے تم کو طرح طرح (کی حالتوں) کا پیدا کیا ہے (۱۴) کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے سات آسمان کیسے اوپر تلے بنائے ہیں (۱۵) اور چاند کو ان میں (زمین کا) نور بنایا ہے اور سورج کو چراغ ٹھہرایا ہے (۱۶) اور خدا ہی نے تم کو زمین سے پیدا کیا ہے (۱۷) پھر اسی میں تمہیں لوٹا دے گا اور (اسی سے) تم کو نکال کھڑا کرے گا (۱۸) اور خدا ہی نے زمین کو تمہارے لئے فرش بنایا (۱۹) تاکہ اس کے بڑے بڑے کشادہ رستوں میں چلو پھرو (۲۰) (اس کے بعد) نوح نے عرض کی کہ میرے پروردگار! یہ لوگ میرے کہنے پر نہیں چلے اور ایسوں کے تابع ہوئے جن کو ان کے مال اور اولاد نے نقصان کے سوا کچھ فائدہ نہیں دیا (۲۱) اور وہ بڑی بڑی چالیں چلے (۲۲) اور کہنے لگے کہ اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا اور ود اور سواع اور یغوث اور یعقوب اور نسر کو کبھی ترک نہ کرنا (۲۳) (پروردگار) انہوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کردیا ہے۔ تو تُو ان کو اور گمراہ کردے (۲۴) (آخر) وہ اپنے گناہوں کے سبب پہلے غرقاب کردیئے گئے پھر آگ میں ڈال دیئے گئے۔ تو انہوں نے خدا کے سوا کسی کو اپنا مددگار نہ پایا (۲۵) اور (پھر) نوحؑ نے (یہ) دعا کی کہ میرے پروردگار اگر کسی کافر کو روئے زمین پر بسا نہ رہنے دے (۲۶) اگر تم ان کو رہنے دے گا تو تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور ان سے جو اولاد ہوگی وہ بھی بدکار اور ناشکر گزار ہوگی (۲۷) اے میرے پروردگار مجھ کو اور میرے ماں باپ کو اور جو ایمان لا کر میرے گھر میں آئے اس کو اور تمام ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو معاف فرما اور ظالم لوگوں کے لئے اور زیادہ تباہی بڑھا (۲۸)

سُوۡرَةُ نُوح
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

إِنَّآ أَرۡسَلۡنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوۡمِهِۦۤ أَنۡ أَنذِرۡ قَوۡمَكَ مِن قَبۡلِ أَن يَأۡتِيَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٌ۬ (١) قَالَ يَـٰقَوۡمِ إِنِّى لَكُمۡ نَذِيرٌ۬ مُّبِينٌ (٢) أَنِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ وَٱتَّقُوهُ وَأَطِيعُونِ (٣) يَغۡفِرۡ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمۡ وَيُؤَخِّرۡكُمۡ إِلَىٰٓ أَجَلٍ۬ مُّسَمًّى‌ۚ إِنَّ أَجَلَ ٱللَّهِ إِذَا جَآءَ لَا يُؤَخَّرُ‌ۖ لَوۡ كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ (٤) قَالَ رَبِّ إِنِّى دَعَوۡتُ قَوۡمِى لَيۡلاً۬ وَنَهَارً۬ا (٥) فَلَمۡ يَزِدۡهُمۡ دُعَآءِىٓ إِلَّا فِرَارً۬ا (٦) وَإِنِّى ڪُلَّمَا دَعَوۡتُهُمۡ لِتَغۡفِرَ لَهُمۡ جَعَلُوٓاْ أَصَـٰبِعَهُمۡ فِىٓ ءَاذَانِہِمۡ وَٱسۡتَغۡشَوۡاْ ثِيَابَہُمۡ وَأَصَرُّواْ وَٱسۡتَكۡبَرُواْ ٱسۡتِكۡبَارً۬ا (٧) ثُمَّ إِنِّى دَعَوۡتُہُمۡ جِهَارً۬ا (٨) ثُمَّ إِنِّىٓ أَعۡلَنتُ لَهُمۡ وَأَسۡرَرۡتُ لَهُمۡ إِسۡرَارً۬ا (٩) فَقُلۡتُ ٱسۡتَغۡفِرُواْ رَبَّكُمۡ إِنَّهُ ۥ كَانَ غَفَّارً۬ا (١٠) يُرۡسِلِ ٱلسَّمَآءَ عَلَيۡكُم مِّدۡرَارً۬ا (١١) وَيُمۡدِدۡكُم بِأَمۡوَٲلٍ۬ وَبَنِينَ وَيَجۡعَل لَّكُمۡ جَنَّـٰتٍ۬ وَيَجۡعَل لَّكُمۡ أَنۡہَـٰرً۬ا (١٢) مَّا لَكُمۡ لَا تَرۡجُونَ لِلَّهِ وَقَارً۬ا (١٣) وَقَدۡ خَلَقَكُمۡ أَطۡوَارًا (١٤) أَلَمۡ تَرَوۡاْ كَيۡفَ خَلَقَ ٱللَّهُ سَبۡعَ سَمَـٰوَٲتٍ۬ طِبَاقً۬ا (١٥) وَجَعَلَ ٱلۡقَمَرَ فِيہِنَّ نُورً۬ا وَجَعَلَ ٱلشَّمۡسَ سِرَاجً۬ا (١٦) وَٱللَّهُ أَنۢبَتَكُم مِّنَ ٱلۡأَرۡضِ نَبَاتً۬ا (١٧) ثُمَّ يُعِيدُكُمۡ فِيہَا وَيُخۡرِجُڪُمۡ إِخۡرَاجً۬ا (١٨) وَٱللَّهُ جَعَلَ لَكُمُ ٱلۡأَرۡضَ بِسَاطً۬ا (١٩) لِّتَسۡلُكُواْ مِنۡہَا سُبُلاً۬ فِجَاجً۬ا (٢٠) قَالَ نُوحٌ۬ رَّبِّ إِنَّہُمۡ عَصَوۡنِى وَٱتَّبَعُواْ مَن لَّمۡ يَزِدۡهُ مَالُهُ ۥ وَوَلَدُهُ ۥۤ إِلَّا خَسَارً۬ا (٢١) وَمَكَرُواْ مَكۡرً۬ا ڪُبَّارً۬ا (٢٢) وَقَالُواْ لَا تَذَرُنَّ ءَالِهَتَكُمۡ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّ۬ا وَلَا سُوَاعً۬ا وَلَا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسۡرً۬ا (٢٣) وَقَدۡ أَضَلُّواْ كَثِيرً۬ا‌ۖ وَلَا تَزِدِ ٱلظَّـٰلِمِينَ إِلَّا ضَلَـٰلاً۬ (٢٤) مِّمَّا خَطِيٓـَٔـٰتِہِمۡ أُغۡرِقُواْ فَأُدۡخِلُواْ نَارً۬ا فَلَمۡ يَجِدُواْ لَهُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ أَنصَارً۬ا (٢٥) وَقَالَ نُوحٌ۬ رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى ٱلۡأَرۡضِ مِنَ ٱلۡكَـٰفِرِينَ دَيَّارًا (٢٦) إِنَّكَ إِن تَذَرۡهُمۡ يُضِلُّواْ عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوٓاْ إِلَّا فَاجِرً۬ا ڪَفَّارً۬ا (٢٧) رَّبِّ ٱغۡفِرۡ لِى وَلِوَٲلِدَىَّ وَلِمَن دَخَلَ بَيۡتِىَ مُؤۡمِنً۬ا وَلِلۡمُؤۡمِنِينَ وَٱلۡمُؤۡمِنَـٰتِ وَلَا تَزِدِ ٱلظَّـٰلِمِينَ إِلَّا تَبَارَۢا (٢٨)

Posted in The Quran.

Tagged with , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , .


0 Responses

Stay in touch with the conversation, subscribe to the RSS feed for comments on this post.



Some HTML is OK

or, reply to this post via trackback.

 

Get Adobe Flash playerPlugin by wpburn.com wordpress themes