Skip to content

Categories:

The Quran (Chapter 76) Al-Insan سورة دهر / الإنسَان

Al-Insan
In the name of Allah, the Beneficent, the Merciful

Has there not been over man a period of time, when he was not a thing worth mentioning? (1) Verily, We have created man from Nutfah (drops) of mixed semen (sexual discharge of man and woman), in order to try him, so We made him hearer and seer. (2) Verily, We showed him the way, whether he be grateful or ungrateful. (3) Verily, We have prepared for the disbelievers iron chains, iron collars, and a blazing Fire. (4) Verily, the Abrâr (the pious and righteous) shall drink of a cup (of wine) mixed with (water from a spring in Paradise called) Kâfûr. (5) A spring wherefrom the slaves of Allâh will drink, causing it to gush forth abundantly. (6) They (are those who) fulfill (their) vows, and they fear a Day whose evil will be wide-spreading. (7) And they give food, inspite of their love for it (or for the love of Him), to Miskin[] (the poor), the orphan, and the captive, (8) (Saying): “We feed you seeking Allâh’s Countenance only. We wish for no reward, nor thanks from you. (9) “Verily, We fear from our Lord a Day, hard and distressful, that will make the faces look horrible (from extreme dislike to it).” (10) So Allâh saved them from the evil of that Day, and gave them Nadhrah (a light of beauty) and joy. (11) And their recompense shall be Paradise, and silken garments, because they were patient. (12) Reclining therein on raised thrones, they will see there neither the excessive heat of the sun, nor the excessive bitter cold, (as in Paradise there is no sun and no moon). (13) And the shade thereof is close upon them, and the bunches of fruit thereof will hang low within their reach. (14) And amongst them will be passed round vessels of silver and cups of crystal — (15) Crystal-clear, made of silver. They will determine the measure thereof (according to their wishes). (16) And they will be given to drink there of a cup (of wine) mixed with Zanjabîl (ginger). (17) A spring there, called Salsabîl. (18) And round about them will (serve) boys of everlasting youth. If you see them, you would think them scattered pearls. (19) And when you look there (in Paradise), you will see a delight (that cannot be imagined), and a great dominion. (20) Their garments will be of fine green silk, and gold embroidery. They will be adorned with bracelets of silver, and their Lord will give them a pure drink. (21) (And it will be said to them): “Verily, this is a reward for you, and your endeavour has been accepted.” (22) Verily, It is We Who have sent down the Qur’ân to you (O Muhammad SAW) by stages. (23) Therefore be patient (O Muhammad SAW) with costancy to the Command of your Lord (Allâh, by doing your duty to Him and by conveying His Message to mankind), and obey neither a sinner nor a disbeliever among them. (24) And remember the Name of your Lord every morning and afternoon [i.e. offering of the Morning (Fajr), Zuhr, and 'Asr prayers]. (25) And during night, prostrate yourself to Him (i.e. the offering of Maghrib and ‘Ishâ’ prayers), and glorify Him a long night through (i.e. Tahajjud prayer) (26) Verily, these (disbelievers) love the present life of this world, and put behind them a heavy Day (that will be hard). (27) It is We Who created them, and We have made them of strong built. And when We will, We can replace them with others like them with a complete replacement. (28) Verily, this (Verses of the Qur’ân) is an admonition, so whosoever wills, let him take a Path to his Lord (Allâh). (29) But you cannot will, unless Allâh wills. Verily, Allâh is Ever All-Knowing, All-Wise (30) He will admit to His Mercy whom He wills and as for the Zâlimûn — (polytheists, wrong-doers) He has prepared a painful torment. (31)

سورة دهر / الإنسَان
شروع الله کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

بےشک انسان پر زمانے میں ایک ایسا وقت بھی آچکا ہے کہ وہ کوئی چیز قابل ذکر نہ تھی (۱) ہم نے انسان کو نطفہٴ مخلوط سے پیدا کیا تاکہ اسے آزمائیں تو ہم نے اس کو سنتا دیکھتا بنایا (۲) (اور) اسے رستہ بھی دکھا دیا۔ (اب) وہ خواہ شکرگزار ہو خواہ ناشکرا (۳) ہم نے کافروں کے لئے زنجیر اور طوق اور دہکتی آگ تیار کر رکھی ہے (۴) جو نیکو کار ہیں اور وہ ایسی شراب نوش جان کریں گے جس میں کافور کی آمیزش ہوگی (۵) یہ ایک چشمہ ہے جس میں سے خدا کے بندے پئیں گے اور اس میں سے (چھوٹی چھوٹی) نہریں نکالیں گے (۶) یہ لوگ نذریں پوری کرتے ہیں اور اس دن سے جس کی سختی پھیل رہی ہوگی خوف رکھتے ہیں (۷) اور باوجود یہ کہ ان کو خود طعام کی خواہش (اور حاجت) ہے فقیروں اور یتیموں اور قیدیوں کو کھلاتے ہیں (۸) (اور کہتے ہیں کہ) ہم تم کو خالص خدا کے لئے کھلاتے ہیں۔ نہ تم سے عوض کے خواستگار ہیں نہ شکرگزاری کے (طلبگار) (۹) ہم کو اپنے پروردگار سے اس دن کا ڈر لگتا ہے (جو چہروں کو) کریہہ المنظر اور (دلوں کو) سخت (مضطر کر دینے والا) ہے (۱۰) تو خدا ان کو اس دن کی سختی سے بچالے گا اور تازگی اور خوش دلی عنایت فرمائے گا (۱۱) اور ان کے صبر کے بدلے ان کو بہشت (کے باغات) اور ریشم (کے ملبوسات) عطا کرے گا (۱۲) ان میں وہ تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے۔ وہاں نہ دھوپ (کی حدت) دیکھیں گے نہ سردی کی شدت (۱۳) ان سے (ثمردار شاخیں اور) ان کے سائے قریب ہوں گے اور میوؤں کے گچھے جھکے ہوئے لٹک رہے ہوں گے (۱۴) خدام) چاندی کے باسن لئے ہوئے ان کے اردگرد پھریں گے اور شیشے کے (نہایت شفاف) گلاس (۱۵) اور شیشے بھی چاندی کے جو ٹھیک اندازے کے مطابق بنائے گئے ہیں (۱۶) اور وہاں ان کو ایسی شراب (بھی) پلائی جائے گی جس میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی (۱۷) یہ بہشت میں ایک چشمہ ہے جس کا نام سلسبیل ہے (۱۸) اور ان کے پاس لڑکے آتے جاتے ہوں گے جو ہمیشہ (ایک ہی حالت پر) رہیں گے۔ جب تم ان پر نگاہ ڈالو تو خیال کرو کہ بکھرے ہوئے موتی ہیں (۱۹) اور بہشت میں (جہاں) آنکھ اٹھاؤ گے کثرت سے نعمت اور عظیم (الشان) سلطنت دیکھو گے (۲۰) ان (کے بدنوں) پر دیبا سبز اور اطلس کے کپڑے ہوں گے۔ اور انہیں چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان کا پروردگار ان کو نہایت پاکیزہ شراب پلائے گا (۲۱) یہ تمہارا صلہ اور تمہاری کوشش (خدا کے ہاں) مقبول ہوئی (۲۲) اے محمد(ﷺ) ہم نے تم پر قرآن آہستہ آہستہ نازل کیا ہے (۲۳) تو اپنے پروردگار کے حکم کے مطابق صبر کئے رہو اور ان لوگوں میں سے کسی بد عمل اور ناشکرے کا کہا نہ مانو (۲۴) اور صبح وشام اپنے پروردگار کا نام لیتے رہو (۲۵) اور رات کو بڑی رات تک سجدے کرو اور اس کی پاکی بیان کرتے رہو (۲۶) یہ لوگ دنیا کو دوست رکھتے ہیں اور (قیامت کے) بھاری دن کو پس پشت چھوڑے دیتے ہیں (۲۷) ہم نے ان کو پیدا کیا اور ان کے مقابل کو مضبوط بنایا۔ اور اگر ہم چاہیں تو ان کے بدلے ان ہی کی طرح اور لوگ لے آئیں (۲۸) یہ تو نصیحت ہے۔ جو چاہے اپنے پروردگار کی طرف پہنچنے کا رستہ اختیار کرے (۲۹) اور تم کچھ بھی نہیں چاہ سکتے مگر جو خدا کو منظور ہو۔ بےشک خدا جاننے والا حکمت والا ہے (۳۰) جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے اور ظالموں کے لئے اس نے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے (۳۱)

سُوۡرَةُ دهر / الإنسَان
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

هَلۡ أَتَىٰ عَلَى ٱلۡإِنسَـٰنِ حِينٌ۬ مِّنَ ٱلدَّهۡرِ لَمۡ يَكُن شَيۡـًٔ۬ا مَّذۡكُورًا (١) إِنَّا خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَـٰنَ مِن نُّطۡفَةٍ أَمۡشَاجٍ۬ نَّبۡتَلِيهِ فَجَعَلۡنَـٰهُ سَمِيعَۢا بَصِيرًا (٢) إِنَّا هَدَيۡنَـٰهُ ٱلسَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرً۬ا وَإِمَّا كَفُورًا (٣) إِنَّآ أَعۡتَدۡنَا لِلۡكَـٰفِرِينَ سَلَـٰسِلَاْ وَأَغۡلَـٰلاً۬ وَسَعِيرًا (٤) إِنَّ ٱلۡأَبۡرَارَ يَشۡرَبُونَ مِن كَأۡسٍ۬ كَانَ مِزَاجُهَا ڪَافُورًا (٥) عَيۡنً۬ا يَشۡرَبُ بِہَا عِبَادُ ٱللَّهِ يُفَجِّرُونَہَا تَفۡجِيرً۬ا (٦) يُوفُونَ بِٱلنَّذۡرِ وَيَخَافُونَ يَوۡمً۬ا كَانَ شَرُّهُ ۥ مُسۡتَطِيرً۬ا (٧) وَيُطۡعِمُونَ ٱلطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِۦ مِسۡكِينً۬ا وَيَتِيمً۬ا وَأَسِيرًا (٨) إِنَّمَا نُطۡعِمُكُمۡ لِوَجۡهِ ٱللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنكُمۡ جَزَآءً۬ وَلَا شُكُورًا (٩) إِنَّا نَخَافُ مِن رَّبِّنَا يَوۡمًا عَبُوسً۬ا قَمۡطَرِيرً۬ا (١٠) فَوَقَٮٰهُمُ ٱللَّهُ شَرَّ ذَٲلِكَ ٱلۡيَوۡمِ وَلَقَّٮٰهُمۡ نَضۡرَةً۬ وَسُرُورً۬ا (١١) وَجَزَٮٰهُم بِمَا صَبَرُواْ جَنَّةً۬ وَحَرِيرً۬ا (١٢) مُّتَّكِـِٔينَ فِيہَا عَلَى ٱلۡأَرَآٮِٕكِ‌ۖ لَا يَرَوۡنَ فِيہَا شَمۡسً۬ا وَلَا زَمۡهَرِيرً۬ا (١٣) وَدَانِيَةً عَلَيۡہِمۡ ظِلَـٰلُهَا وَذُلِّلَتۡ قُطُوفُهَا تَذۡلِيلاً۬ (١٤) وَيُطَافُ عَلَيۡہِم بِـَٔانِيَةٍ۬ مِّن فِضَّةٍ۬ وَأَكۡوَابٍ۬ كَانَتۡ قَوَارِيرَا۟ (١٥) قَوَارِيرَاْ مِن فِضَّةٍ۬ قَدَّرُوهَا تَقۡدِيرً۬ا (١٦) وَيُسۡقَوۡنَ فِيہَا كَأۡسً۬ا كَانَ مِزَاجُهَا زَنجَبِيلاً (١٧) عَيۡنً۬ا فِيہَا تُسَمَّىٰ سَلۡسَبِيلاً۬ (١٨) ۞ وَيَطُوفُ عَلَيۡہِمۡ وِلۡدَٲنٌ۬ مُّخَلَّدُونَ إِذَا رَأَيۡتَہُمۡ حَسِبۡتَہُمۡ لُؤۡلُؤً۬ا مَّنثُورً۬ا (١٩) وَإِذَا رَأَيۡتَ ثَمَّ رَأَيۡتَ نَعِيمً۬ا وَمُلۡكً۬ا كَبِيرًا (٢٠) عَـٰلِيَہُمۡ ثِيَابُ سُندُسٍ خُضۡرٌ۬ وَإِسۡتَبۡرَقٌ۬‌ۖ وَحُلُّوٓاْ أَسَاوِرَ مِن فِضَّةٍ۬ وَسَقَٮٰهُمۡ رَبُّہُمۡ شَرَابً۬ا طَهُورًا (٢١) إِنَّ هَـٰذَا كَانَ لَكُمۡ جَزَآءً۬ وَكَانَ سَعۡيُكُم مَّشۡكُورًا (٢٢) إِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا عَلَيۡكَ ٱلۡقُرۡءَانَ تَنزِيلاً۬ (٢٣) فَٱصۡبِرۡ لِحُكۡمِ رَبِّكَ وَلَا تُطِعۡ مِنۡہُمۡ ءَاثِمًا أَوۡ كَفُورً۬ا (٢٤) وَٱذۡكُرِ ٱسۡمَ رَبِّكَ بُكۡرَةً۬ وَأَصِيلاً۬ (٢٥) وَمِنَ ٱلَّيۡلِ فَٱسۡجُدۡ لَهُ ۥ وَسَبِّحۡهُ لَيۡلاً۬ طَوِيلاً (٢٦) إِنَّ هَـٰٓؤُلَآءِ يُحِبُّونَ ٱلۡعَاجِلَةَ وَيَذَرُونَ وَرَآءَهُمۡ يَوۡمً۬ا ثَقِيلاً۬ (٢٧) نَّحۡنُ خَلَقۡنَـٰهُمۡ وَشَدَدۡنَآ أَسۡرَهُمۡ‌ۖ وَإِذَا شِئۡنَا بَدَّلۡنَآ أَمۡثَـٰلَهُمۡ تَبۡدِيلاً (٢٨) إِنَّ هَـٰذِهِۦ تَذۡكِرَةٌ۬‌ۖ فَمَن شَآءَ ٱتَّخَذَ إِلَىٰ رَبِّهِۦ سَبِيلاً۬ (٢٩) وَمَا تَشَآءُونَ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ‌ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمً۬ا (٣٠) يُدۡخِلُ مَن يَشَآءُ فِى رَحۡمَتِهِۦ‌ۚ وَٱلظَّـٰلِمِينَ أَعَدَّ لَهُمۡ عَذَابًا أَلِيمَۢا (٣١)

Posted in The Quran.

Tagged with , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , .

This website uses IntenseDebate comments, but they are not currently loaded because either your browser doesn't support JavaScript, or they didn't load fast enough.


0 Responses

Stay in touch with the conversation, subscribe to the RSS feed for comments on this post.



Some HTML is OK

or, reply to this post via trackback.


Get Adobe Flash playerPlugin by wpburn.com wordpress themes